روس اور یوکرین

روس کی یوکرین کے ساتھ اناج کی برآمدات کے معاہدے میں شرکت معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے کریمیا میں اپنے بحری جہازوں پرڈرون حملوں کے بعد یوکرین کی بندرگاہوں سے زرعی اجناس برآمد کرنے کے معاہدے میں شرکت معطل کردی ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی تاس نے وزارت دفاع کے حوالے سے ہفتے کے روز یہ اطلاع دی ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کی افواج نے ڈرونز کے ذریعے جزیرہ نما کریمیا کے سب سے بڑے شہر سیفستوپول کی بندرگاہ پر بحیرہ اسودکے بحری بیڑے کے جہازوں پر حملہ کیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے:’’کیف حکومت کی طرف سے بحیرۂ اسود میں موجود بحری بیڑے کے جہازوں اور’’اناج کوریڈور‘‘کی حفاظت کو یقینی بنانے پرمامورسویلین جہازوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی کی ہے۔اس بناپرروس نے یوکرین کی بندرگاہوں سے زرعی اجناس کی برآمد سے متعلق معاہدوں پرعمل درآمد میں شرکت معطل کردی ہے‘‘۔

اس نے الزام عاید کیا ہے کہ یوکرین نے برطانوی ماہرین کی مدد سے اس کے بحری بیڑے پرڈرون حملے کیے ہیں۔

اس سے قبل وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ہفتے کے روز ہونے والے ڈرون حملوں کو بڑی حد تک پسپا کر دیا گیا تھا اور ان سے معمولی نقصان پہنچا تھا۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ مارٹن گریفیتھس نے گذشتہ بدھ کواس امید کا اظہارکیا تھا کہ یوکرین کے بحیرۂ اسود کے ذریعے اناج کی برآمدات کی بحالی کی اجازت دینے والے معاہدے کو نومبر کے وسط سے آگے بڑھایا جائے گا۔

اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں 22 جولائی کو یہ معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت یوکرین بحیرہ اسود کے ذریعے اناج اور کھاد کی برآمدات کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب رہا ہے۔واضح رہے کہ 24 فروری کو روس کے حملے کے بعد یوکرین کی زرعی اجناس کی برآمدات معطل ہوکررہ گئی تھیں۔ یوکرین کی زرعی اجناس کی برآمدات کے معاہدے پرابتدائی طور پر 120 دن کے لیے اتفاق کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں