بھارت:ریاست گجرات میں دریائی پُل گرنے سے 60 سے زیادہ افراد ہلاک

حادثہ کے وقت قریباً500 افراد پل سے گذررہے تھے، 100افراد پانی میں ڈوبنے کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں واقع قصبے موربی میں برطانوی دورکا ایک پُل تزئین وآرائش کے ایک ہفتے بعد ہی منہدم ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 60 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پُل گرنے کا یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق اتوار کی شام 6 بج کر42 منٹ پرپیش آیا ہے جب چھٹھا پوجا کی کچھ رسومات ادا کرنے کے لیے قریباً پانچ سوافراد اس پر جمع ہوئے تھے۔سوشل میڈیا پرپوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیکڑوں لوگوں کے چلتے ہوئے پل خطرناک حد تک ہل رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق قریباً 100 افراد کے دریائے ماچھوکے پانی میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔سوشل میڈیا پرپوسٹ کی گئی جائے وقوعہ کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بہت سے لوگ پانی میں پیراکی کی جدوجہد کررہے تھے اور اندھیرے میں کناروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ سترہ افراد کو بچالیا گیا ہے اور انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

یادرہے کہ 230 میٹرلمبا یہ تاریخی پل 19ویں صدی میں برطانوی راج کے دورمیں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ گذشتہ چھے ماہ سے مرمت اورتزئین وآرائش کے لیے بند تھا اوراسے 26 اکتوبر کو گجراتی نئے سال کے موقع پر عوام کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا۔

موربی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اور ریاستی وزیربرجیش مرجا نے 40 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

گجرات کے وزیر برائے لیبراور روزگار برجیش مرجا نے این ڈی ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ حکومت اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

بھارتی ٹی وی چینل زی نیوزکے مطابق حادثے کے وقت گجرات کے قصبہ موربی میں دریائے ماچھو پرواقع پل پر 400 سے زیادہ افراد سوار تھے۔ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجنوں افراد کیبلز سے چمٹے ہوئے ہیں اور منہدم ہونے والے پل کو ہنگامی ٹیمیں بچانے کے لیے جدوجہدکررہی ہیں۔کچھ لوگوں نے ندی کے کناروں کی طرف جانے کی کوشش کرنے کے لیے ان کی مدد کی، جب کہ کچھ لوگ تیر کر محفوظ مقام پر پہنچ گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مقامی افراد ہیں جو تفریحی مقاصد کے لیے پل کی سیرکوآئے تھے۔موربی دنیا کے سب سے بڑے سیرامک مینوفیکچرنگ مراکزمیں سے ایک ہے اور بھارت کی سیرامک پیداوار کا80 فی صد سے زیادہ یہیں تیارہوتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی آبائی ریاست کے وزیراعلیٰ کو حادثے کے فوری بعد ریسکیو آپریشن کے لیے ٹیموں کو متحرک کرنے کی ہدایت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ میں موربی کے سانحے میں اپنی جان گنوانے والے شہریوں کے اہل خانہ کے تئیں تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔وہ خود بھی گجرات کے تین روزہ دورے پر ہیں۔

یہ واقعہ گجرات میں اختتام سال میں انتخابات کے انقعاد سے قبل پیش آیا ہے۔ مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کی موجودہ میعاد فروری، 2023 میں ختم ہورہی ہے۔

ریاست کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے ٹویٹ کیا کہ ریاستی حکومت مہلوکین کے اہل خانہ کوچار، چارلاکھ روپے اور زخمیوں کو 50,000 روپے امداد کے طور پر دے گی۔مہلوکین کے اہل خانہ کے لیے وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ سے 2 لاکھ روپے فی کس معاوضے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں