روس اور یوکرین

یوکرینی اناج کی برآمدات کا معاہدہ معطل؛امریکی تبصرے پرروس کاسخت ردِّعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

واشنگٹن میں متعیّن روسی سفیرنے اقوام متحدہ کی ثالثی میں بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی برآمدات کے معاہدے میں اپنے ملک کی شرکت معطل کرنے کے فیصلے کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے پر امریکا کی سرزنش کی ہے۔

سفیراناطولی انتونوف نے ٹیلی گرام پرکہا:’’سیفستوپول کی بندرگاہ پر دہشت گردانہ حملے پر واشنگٹن کا رد عمل واقعی اشتعال انگیزہے۔ہم نے اس کی طرف سے کیف حکومت کے اقدامات کی مذمت کا کوئی اشارہ نہیں دیکھاہے‘‘۔

انتونوف نے کہا کہ ان تمام اشاروں کوبھی نظراندازکردیا گیا ہے کہ برطانوی فوجی ماہرین ڈرونز کے استعمال کے ذریعے روسی بحری جہازوں پر بڑے پیمانے پرحملے کو منظم کرنے میں ملوّث تھے۔

دوسری جانب برطانیہ نے روس کے دعووں کومن گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اناج کے معاہدے پر روس کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’خالصتاً اشتعال انگیز‘‘قراردیا اور کہا کہ اس سے دنیا میں بھوک میں اضافہ ہوگا۔

دریں اثناء فرانس کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ روس کے یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں کہ برطانیہ نے کریمیا میں نورڈاسٹریم گیس پائپ لائن اور روسی بحریہ کے جہازوں پرحملوں میں حصہ لیا تھا۔

وزارت خارجہ کے نائب ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ الزامات ماسکو کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد یوکرین کے خلاف جاری جارحانہ جنگ سے دوسروں کی توجہ ہٹانا ہے۔

نیز پولینڈ نے اپنے یورپی یونین کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کو ضروری سامان کی نقل وحمل میں مزید مدد دینے کی پیش کش کی ہے۔اس نےروس کے یوکرینی اناج کی برآمدات کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد یہ پیش کش کی ہے۔

روس کی جانب سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے میں اپنی شرکت معطل کرنے کا فیصلہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ ماسکو کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے تیار نہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں 22 جولائی کو یہ معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت یوکرین بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کے ذریعے اناج اور کھاد کی برآمدات کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب رہا ہے۔واضح رہے کہ 24 فروری کو روس کے حملے کے بعد یوکرین کی زرعی اجناس کی برآمدات معطل ہوکررہ گئی تھیں۔ یوکرین کی زرعی اجناس کی برآمدات کے معاہدے پرابتدائی طور پر 120 دن کے لیے اتفاق کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں