سعودی عرب میں ریڈیو اور ٹی وی کے عرب فیسٹیول کی تیاریاں

ایک ہزار میڈیا پروفیشنلز اور 200 بین الاقوامی کمپنیاں اور تنظیمیں شرکت کر رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی دارالحکومت ریاض نے 9 سے 12 نومبر تک منعقد ہونے والے عرب ریڈیو اور ٹیلی ویژن فیسٹیول کے بائیسویں سیشن کی میزبانی کے لیے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، چار دہائیوں میں پہلی مرتبہ یہ فیسٹول اپنے ہیڈ کوارٹرز تیونس سے باہر منعقدہ رہا ہے۔ اس فیسٹول کے ساتھ میڈیا کے مستقبل سے متعلق فومیکس کی نمائش بھی پیش کی جارہی ہے۔

عرب سٹیٹس براڈ کاسٹنگ یونین (ASPO) کے صدر اور سعودی ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کے سی ای او محمد الحارثی نے کہا کہ ان کے ملک کی جانب سے اس تقریب کی میزبانی ان تبدیلیوں کے مطابق ہے جو ریاض کو خطے کی سب سے اہم میڈیا پروڈکشن انڈسٹری کا دارالحکومت بنا دیں گی۔

الحارثی نے کہا اقتصادی اور ترقیاتی نشاۃ ثانیہ اور ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کے اثبات کے طور پر ریاض میں فیسٹیول کی میزبانی کی جارہی ہے۔ آج ملک "وژن 2030" کی روشنی میں اس فیسٹول کو اپنے ہاں منعقد کرانے کا تجربہ کر رہا ہے۔

انہوں نےکہا اس فیسٹول سے سعودی عرب سرکردہ سرمایہ کاری کی قوت کے طور پر سامنے آئے گا اور اس سے بین الاقوامی تقریبات کی میزبانی کی اعلی صلاحیتوں کا بھی پتہ چلے گا۔

انہوں نے مزید کہا یہ میزبانی سعودیہ کے سیاحتی علاقوں میں پائے جانے مواقع، موثر سرمایہ کاری کیلئے انفرا سٹرکچر کی معیاری قدر کو اجاگر کرتی اور اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ سعودییہ کے تعلقات کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔

الحاری نے مزید کہا کہ اس فیسٹیول میں بہت سے اقدامات اور شراکت داریوں کے آغاز کا مشاہدہ کیا جائے گا۔ جس کا مقصد ترقی کے مطابق عرب پیداواری صنعت کو مضبوط بنانا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے عرب رہنما کے طور پر بنیادی کردار کی بنیاد پر خطے میں مستقبل کیلئے میڈیا کے نقشے کے معیار کیلئے واضح خصوصیات تیار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا یہ اقدامات عصری عرب اسلامی تہذیب اور حقیقت کو بھی متعارف کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں ثقافتی اور سائنسی آگاہی اور جمالیاتی ذوق کی سطح بھی بلند ہوگی۔

اس فیسٹیول میں دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد میڈیا پروفیشنلز اور اہم ترین بین الاقوامی میڈیا تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت ہوگی۔ فیسٹول میں 30 سے زائد ورکشاپس اور سیشنز ہوں گے ۔ ان سیشنز میں تمام موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو پروڈکشن، کھیلوں کا میڈیا اور سٹارڈم، میڈیا میں خواتین کی شرکت اور سنیما میں ان کے کردار اور ان کے مسائل سے متعلق سیشن ہوں گے۔ فلم سازی، آزاد میڈیا اور دیگر موضوعات کا بھی احاطہ کیا جائے گا۔

میڈیا اور فنکارانہ شخصیات کی ایک بڑی تعداد کا اعزاز

عرب سٹیٹس براڈ کاسٹنگ یونین کے سربراہ نے کہا کہ فیسٹیول کا آغاز ایک وسیع تقریب سے کیا جائے گا جس میں میڈیا اور فنکارانہ شخصیات جنہوں نے اپنی سمعی و بصری پروڈکشنز سے عرب منظر نامے کو مالا مال کیا ہے، اور ایسے ستارے جنہوں نے عرب دنیا میں میڈیا کو تقویت دینے کیلئے موثر تعاون کیا ہے کو اعزازات دئیے جائیں گے۔

فیسٹول کے پہلے دن ایک میوزک کنسرٹ منعقد ہوگا۔ پہلے دن میڈیا پرسنز اور ماہرین کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ ٹیلی ویژن اور ریڈیو مقابلوں میں جیتنے والے کاموں کو سونے اور چاندی کے 60 سے زائد انعامات سے بھی نوازا جائے گا۔ مرکزی اور متوازی مقابلوں میں ٹیلی ویژن ٹریک کے لیے 32 انعامات اور ریڈیو ٹریک کے لیے 32 انعامات ہیں۔ ان میں سے 28 انعامات مرکزی ہیں۔ تبادلے کے لیے 4 انعامات مختص کیے گئے ہیں جن میں سے نصف سونے کے اور نصف چاندی کے ہیں۔

الحارثی نے مزید بتایا کہ فومیکس نمائش میں رکن تنظیمیں، ٹیلی ویژن نیٹ ورکس، نجی ریڈیو سٹیشنز، بین الاقوامی عربی بولنے والے چینلز، تکنیکی آلات کے سب سے مشہور بین الاقوامی مینوفیکچررز اور پروڈکشن کے 200 سے زائد ادارے شرکت کر رہے ہیں۔ اس نمائش کا مقصد ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی پیداوار کو فعال اور زندہ کرنا ہے۔ یہ نمائش ٹیکنالوجی اور اختراع میں تازہ ترین پیش رفت سے متعلق خیالات، آراء اور تجربات کے تبادلے کے لیے ایک زرخیز ماحول پیدا کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ نمائش میں شرکت کے لیے خصوصی کمپنیوں کا وسیع ٹرن آؤٹ مستقبل کے میڈیا کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی اس بڑی عرب میڈیا تقریب میں شرکت کرنے اور مارکیٹ میں سعودی موجودگی سے استفادہ کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

الحارثی نے کہا کہ فومیکس اس سال اور آنے والے سالوں کے دوران نمائش میں حصہ لینے والی نمایاں پروڈکشن ٹیکنالوجیز کے لیے ایک مستقبل کا پلیٹ فارم تشکیل دے گا جس میں متعدد سرکردہ افراد، عالمی کمپنیاں اور ادارے شرکت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں