سیف الاسلام قذافی نئے روپ میں سامنے آگئے، سوشل میڈیا پر خوب چرچا

سپورٹ لباس میں سرمئی داڑھی کیساتھ قذافی کے بیٹے کی تصویر اتوار کی شام سامنے آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سیف الاسلام قذافی نے اپنے نئے رو پ کے باعث لیبیا میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک مرتبہ پھر بڑی بحث چھیڑ دی۔ اتوار کی شام ان کی نئی تصویر سامنے آئی اور چند گھنٹوں میں ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، ایک سال قبل صدارتی انتخابات میں امیدواری کے کاغذات جمع کرانے کے بعد سے لاپتہ ہونے کے بعد یہ ان کی پہلی پیشی تھی۔

کرنل قذافی کے بیٹے ایک نئی تصویر میں نمودار ہوئے، اس تصویر میں وہ سپورٹس لباس میں ہیں ، معمول کی سرمئی داڑھی بھی ہے اور انہوں نے اپنا وہ مشہور چشمہ بھی پہنا ہوا ہے جو ان کے والد کے دور حکومت سے وہ پہنتے نظر آتے ہیں۔ خیال کیا جارہا ہے کہ جنوبی لیبیا کے صحرائی علاقے میں موجود ہیں۔ تصویر کس تاریخ کو لی گئی۔ اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

سیف الاسلام کے حالیہ حلیے میں لیبیا کے عوام نے گہری دلچسپی لی ہے اور سوشل میڈیا پر ان کے حلیے کو بڑے پیمانے پر ڈسکس کیا جارہا ہے۔ کچھ لوگ ان کے چہرے کے تاثرات اور ظاہری شکلوں کا تجزیہ کرنے میں مصروف ہیں ۔ بعض افراد نے کہا وہ غصہ اور بدلہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا وہ ایک انتظار کی کیفیت میں ہیں۔ ان کا یہ چہرہ چیلنجز کا سامنا کرنے کی ان کی صلاحیت کو آشکار کر رہا ہے۔

سیف الاسلام قذافی کے حالیہ ظاہری حلیے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی لیبیا کے اندر اس مقبولیت کا بھی پتہ دے رہی ہے۔ وہ لیبیا میں اپنی شہرت سے بھرپور لطف ا ندوز ہوتے آرہے ہیں۔ بالخصوص صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش کے اظہار کے بعد سیاسی میدان میں ان کی طرف لوگوں کی توجہ بڑھ گئی تھی۔

مرحوم کرنل قذافی کے بیٹے ملک کے جنوب میں شہر سبھا میں پیشی کے بعد سے لاپتہ ہوگئے تھے ۔ گزشتہ برس نومبر میں انہوں نے صدارتی الیکشن کے امیدوار کے طور پر اپنے کاغذ جمع کرائے تھے۔ تاہم اس کے بعد لیبیا کی ایک عدالت نے انہیں سزا سنا دی اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دئیے گئے، انہیں سیاسی قوتوں کی طرف سے بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر ماضی میں ان کے والد کی حکومت کی مخالفت کرنے والی قوتیں ان کی بھی شدید مخالف ہیں۔ ان وجوہات پر ہائی الیکٹورل کمیشن نے انہیں امیدواروں کی ابتدائی فہرست سے خارج کر دیاتھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں