'نورہ مچھلی پکڑنا چاہتی تھی' پانی میں ڈوبنے سے بچائی گئی سعودی بچی کے والد کا انٹرویو

’’ماں بھی پانی میں کود گئی تھیں‘‘ نورہ کے والد مسفر المری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو تفصیلات بتائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں جبیل میں ڈوبنے سے بچ جانے والی بچی نورہ کے والد نے خوشی کے جذبات کے ساتھ واقعہ کی تفصیلات العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ بچی خود سے پانی میں چلی گئی تھی، ماں نے بیٹی کو نہ پا کر اسے ڈھونڈا اور اس کا پیچھا کیا تھا۔

مسفر المری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس کے نجات دہندہ علی المری نے 5 سالہ نورہ کو بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ان کا خاندان اس مقام پر گیا تھا۔ انہوں نے کہا یہی وجہ تھی کہ میرے کام کے حالات کی بنا پر اور اہل خانہ سے رابطہ نہ کرنے کے باعث واقعہ کی خبر مجھ تک دیر سے پہنچی۔

چھوٹی باڑ

انہوں نے مزید کہا کہ جائے وقوعہ پر باڑ چھوٹی دکھائی دی جس کی وجہ سے ننھی بچی نورہ سمندر کی طرف چلی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں نے نورہ سے پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ وہ ایک مچھلی پکڑنا چاہتی ہے جسے اس نے سمندر میں دیکھا تھا۔

المری نے مزید با ت کرتے ہوئے کہا کہ بچی جیسی ہے گری ماں اسے بچانے کیلئے خود بھی پانی میں کود گئی تھی حالانکہ وہ تیرنا بھی نہیں جانتی تھی تاہم اس نے بچی کو بچانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

اللہ کا شکر ہے اب بچی اور والدہ دونوں ٹھیک ہیں ۔ دونوں کو معمولی زخم آئے ہیں۔

بچے کو بچانے والا

مسفر المری نے بچی نورہ کے نجات دہندہ علی المری کے متعلق بتایا اور کہا کہ علی المری ہمارے قبیلہ کا ہی ہے اور واقعہ کے بعد ہماری ملاقات ہوئی ہے۔ نورہ کو بچانے پر اللہ علی المزی کو صحت اور تندرستی کے ساتھ بہترین انعام سے نوازیں۔

واضح رہے واقعہ جبیل انڈسٹریل سٹی کے التلال پارک میں پیش آیا۔ بچی کو بچانے کیلئے علی المزی کی کوشش کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور صارفین نے بڑے پیمانے پر علی المزی کو تعریفات سے نوازا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں