سعودی عرب ترکیہ کے مرکزی بینک میں 5ارب ڈالر جمع کرائے گا؛بات چیت حتمی مراحل میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کے درمیان پانچ ارب ڈالرکے ڈپازٹ پربات چیت ہو رہی ہے۔دونوں ملکوں میں اتفاق رائے کے بعد سعودی عرب کا مرکزی بینک ترکیہ کے مرکزی بینک میں یہ خطیررقم منتقل کرے گا۔

سعودی عرب کے ایک ترجمان نے اس امرکی تصدیق کی ہے کہ ’’ہم ترکیہ کے مرکزی بینک میں پانچ ارب ڈالر جمع کرانے کے لیے حتمی بات چیت کررہے ہیں‘‘۔

لیکن دوسری جانب ترکیہ کے مرکزی بینک نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکارکردیا ہے۔اس معاملے سے آگاہ ایک ترک عہدہ دار نے بتایا کہ سعودی عرب کے ساتھ رقم کی منتقلی یا ڈِپازٹ معاہدے پر بات چیت آخری مرحلے میں ہے۔

ترکیہ کی معیشت اس وقت قومی کرنسی لیرا کی قدرمیں مسلسل کمی اور 85 فی صد سے زیادہ افراط زر کی وجہ سے بری طرح دباؤکا شکار ہے اور تبادلے یا ڈپازٹ کے معاہدے سے ترکیہ کے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے صدر رجب طیب ایردوآن کو جون 2023 میں ہونے والے انتخابات سے قبل حمایت حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ترکیہ کے مرکزی بینک نے متعددممالک کے مرکزی بینکوں کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں مجموعی طور پر28 ارب ڈالر مالیت کے سمجھوتے کیے ہیں۔ اس نے چین کے ساتھ 6 ارب ڈالر، قطر کے ساتھ 15 ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریباً5 ارب ڈالر کے معاہدے پردست خط کیے ہیں۔

دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان بات چیت کا یہ سلسلہ انقرہ اورالریاض کی جانب سے 2018 میں منقطع ہونے والے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی مشترکہ کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں