15نومبرکواسرائیل سے وابستہ ٹینکرپرڈرون حملے میں ایران کا ہاتھ تھا:امریکی بحریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی بحریہ نے منگل کے روز ایک تجزیہ جاری کیا ہے اور اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ 15 نومبر کو عُمان کے ساحل کے قریب اسرائیل سے وابستہ ایک ٹینکر پر ڈرون حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ کارفرما تھا۔

بحرین میں امریکی بحریہ کی ایک لیبارٹری نے ڈرون کے ملبے کے ٹکڑوں اور دیگر دھماکا خیزمواد کی باقیات کے نمونوں کا فرانزک تجزیہ کرنے کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے۔

امریکاکے پانچویں بحری بیڑے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’بحرین میں بحریہ کی لیبارٹری نے 15 نومبر کو مشرق اوسط میں بین الاقوامی پانیوں سے گزرنے والے لائبیریا کے پرچم بردار تجارتی ٹینکر پر فضائی ڈرون حملے میں ایران کے ملوّث ہونے کی تصدیق کی ہے‘‘۔

یہ ڈرون شاہد136 یو اے وی تھا۔یہ ڈرون یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی بھی استعمال کررہے ہیں اور یہی فضائی ڈرون تہران نے روس کو یوکرین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے مہیّا کیا ہے۔

اس ڈرون حملے سے قبل اسرائیل کے ملکیتی ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس سے اس کے پچھلے حصے میں 30 انچ چوڑا سوراخ ہو گیا تھا اور دیگراندرونی حصوں کو نقصان پہنچا تھا۔

امریکی بحریہ کی مرکزی کمان کے کمانڈر وائس ایڈمرل براڈ کوپر نے اس حوالے سے کہا کہ ’’بین الاقوامی پانیوں سے گزرنے والے ایک تجارتی ٹینکر پر ایرانی حملہ جان بوجھ کرکیا گیا،یہ واضح اور خطرناک تھا، جس سے جہازکے عملہ کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں اور مشرق اوسط میں بین الاقوامی جہازرانی کو عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا‘‘۔

مسٹرکوپرنے اس سے قبل العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویومیں کہا تھا کہ ایران خلیج میں جہازرانی کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں