قطرمیں ورلڈ کپ سے قبل دبئی میں قلیل مدتی کرایوں میں زبردست اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطرمیں جاری فیفا ورلڈ کپ ٹورنامنٹ سے قبل کے مہینوں میں دبئی میں قلیل مدتی کرایوں میں 22 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

دبئی میں قائم رئیل اسٹیٹ کمپنی بیٹرہومز کی قلیل مدتی رینٹل کمپنی بیٹرسٹے کے ڈپارٹمنٹ مینجر جوانا پلنکٹ نے العربیہ کو بتایا کہ ’’مجھے لگتا ہے،یہ یقینی طور پر ایک ایسی چیز ہے جس کی ہم نے خالصتاً توقع کی تھی کیونکہ یہ اتنا لمبا وقت آرہا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ کے قطر میں ہونے کے بارے میں پہلے ہی بہت زیادہ غوغاآرائی ہورہی تھی۔اس کا انعقاد سال کا غیرمعمولی واقعہ ہے اور پھریہ مشرق اوسط میں پہلی مرتبہ دنیا کا سب سے بڑا ٹورنا منٹ ہورہا ہے۔

دبئی میں قلیل مدتی کرائے ہمیشہ زیادہ ہی رہے ہیں۔خاص طورپرغیرملکیوں کے لیے کیونکہ یہ طویل مدتی کرایہ داری کے معاہدوں کے پابند ہوئے بغیر زیادہ سے زیادہ لچک فراہم کرتے ہیں۔تاہم ، ورلڈ کپ سے پہلے کے مہینوں میں ، کمپنی نے مکانوں اور ہوٹل کمروں کی شرح میں اضافے کا مشاہدہ کیا۔

کمپنی نے کرایہ پر لینے کے لیے قلیل مدتی جائیدادوں کی تلاش کرنے والے لوگوں کی پوچھ تاچھ کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے اورعام طور پرموسم گرما کی شدت کے دنوں اور ورلڈ کپ اشتہارات کے آغاز کے درمیان رجسٹرڈ لیڈز میں 342 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ڈاؤن ٹاؤن دبئی اور دبئی مرینا سیاحوں میں مقبولیت اوراکثروبیشتر آنے والے زائرین کی واقفیت کی وجہ سے دو سب سے زیادہ پوچھ گچھ والے علاقوں میں سے تھے۔ مرینا میں زائرین کے لیے ہر روز فٹ بال عالمی کپ کے میچ دکھانے کا بندوبست کیا گیا ہے اور قطر کا سفرکیے بغیر انتہائی متحرک ماحول سے خودکو سرشارکرسکتے ہیں۔

پلنکٹ نے العربیہ کو بتایا کہ قلیل مدتی کرایے آہستہ آہستہ دبئی کے رہائشیوں کے لیے ان کی لچ کدار فطرت کی وجہ سے زیادہ قابل عمل آپشن بن رہے ہیں۔ شہرکی غیرملکی آبادی جگہوں کی تبدیلی سے پہلے مختصروقت کے لیے قیام کرتی ہے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ’’یہ ایک قلیل مدتی جگہ ہے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد دبئی میں رہتی ہے لیکن وہ پڑوسی ممالک میں کام کرتے ہیں وہ قلیل مدتی کرایے کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ اس صورت میں انھیں صرف استعمال کے مطابق ہی کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور سال بھر کا کرایہ نہیں بھرنا پڑتا۔

رئیل اسٹیٹ کا یہ رجحان سرمایہ کاروں کو پہلے سے کہیں زیادہ راغب کررہا ہے اوربہت سے سرمایہ کار بھی وقتاً فوقتاً جائیداد کا استعمال کرتے ہوئے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

العربیہ انگلش نے پراپرٹی فائنڈر کے متحدہ عرب امارات کے کنٹری مینیجر اسکاٹ بانڈ سے بھی بات کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’دبئی کی ہاؤسنگ مارکیٹ اس وقت سرمایہ کاروں کا سب سے پہلاانتخاب ہے، خاص طور پر بحران کے وقت جب دبئی ایک مستحکم، فعال محفوظ پناہ گاہ کے طورپرابھر کر سامنے آتاہے‘‘۔

بانڈ کا خیال ہے کہ اس کی وجہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ’’موثراقدامات ، پالیسیاں اورقواعدوضوابط ہیں جس سے’’بحالی‘‘ اور’’ٹھوس میکروبنیادی اصولوں اوردنیا کے معروف سیاحت،کاروباراورجدت طرازی کے ماحول‘‘کی راہ ہموارہوتی ہے۔

رواں سال تیسری سہ ماہی کے لیے پراپرٹی فائنڈرکی مارکیٹ واچ رپورٹ کے مطابق،دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں فروخت کی تعداد 25،456 تک پہنچ گئی ہیں،جوپچھلے سال کی اسی سہ ماہی کیمدت میں کی گئی 15،744 منتقلی کے مقابلے میں ایک بہت بڑا اضافہ ہے،جس میں قریباً62 فی صد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بانڈ نے کہا کہ یہ سہ ماہی شہر کی 12 سال میں ایک سہ ماہی کے لیے سب سے زیادہ کارکردگی تھی۔

پلنکٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ’’میرے خیال میں دبئی خود ان جگہوں میں سے ایک ہے جہاں سال بہ سال، زیادہ سے زیادہ لوگ بہت سی وجوہات کی بنا پرآتے ہیں، چاہے وہ ٹیکس فری کمائی ہو، انتہائی حفاظت ہو، یا سال بھر میں حیرت انگیز موسم ہو‘‘۔

ان کا کہنا تھاکہ’’یہ ان جگہوں میں سے ایک ہے جس کا لوگ باقی دنیا سے نقل مکانی کرکے یا راہ فرار اختیارکی صوت میں رُخ کرتے ہیں۔لوگ ایسی جگہ سرمایہ کاری کرناچاہتے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہوکیونکہ سال میں دیگر مقامات کے مقابلے میں یہاں کرائے کی شکل میں زیادہ واپسی ہوتی ہے۔نیزاگرآپ اس کا لندن، نیویارک، اور سنگاپورسے موازنہ کرتے ہیں تو یہ فی الواقع ان سے بہتر ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں