یمن اور حوثی

حوثیوں کو دہشت گرد گروپ قرار دینے سے امدادی کام متاثر نہیں ہوں گے: یمنی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے وزیر خارجہ احمد عوض بن مبارک نے بدھ کے روز کہا ہے کہ حوثی گروپ سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کو "دہشت گرد" گروپ قرار دینے سےملک میں امدادی کام متاثر نہیں ہوں گے۔

معاصر عزیز'الشرق الاوسط' اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بن مبارک نے تصدیق کی کہ یمنی حکومت دنیا بھر میں اپنے مفادات اور مالیاتی نیٹ ورکس کے حصول کے لیے حوثی رہ نماؤں اور اداروں کے ناموں کی "بلیک لسٹ" تیار کر رہی ہے۔

وزیر خارجہ نے تیل برآمد کرنے والی بندرگاہوں پر حوثیوں کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حوثیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی کارروائی سے یمنی حکومت عالمی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی تاکہ انہیں "دہشت گرد" گروپ کے طور پر درجہ بندی کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

بن مبارک نے کہا کہ حوثی گروپ ان کارروائیوں سے "یمنیوں کی روزی روٹی کو نشانہ بناتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی طرف سے حوثیوں کو "دہشت گرد تنظیم" قرار دینے سے دستبردار ہونے کے برے نتائج برآمد ہوئے۔ امریکا کے حوثیوں ہے بارے میں فیصلے سے عسکریت پسند گروپ کو فوجی کارروائیوں کی ترغیب ملی۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم امریکی انتظامیہ کو حوثیوں کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دلوانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بن مبارک نے حوثی گروپ پر الزام لگایا کہ "یہ لوگ جنگ بندی کی توسیع میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور حقیقی امن کے کسی بھی امکان کو روکتے ہیں، کیونکہ یہ صرف جنگ اور افراتفری چاہتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں