سعودی عرب :جدہ میں موسلادھاربارش؛دوافرادجاں بحق، اسکول بند اور پروازیں تاخیرکا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ سمیت مغربی علاقوں میں جمعرات کو شدید بارش کے نتیجے میں دوافراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔موسلادھار بارش سے پروازوں میں تاخیر ہوئی اوراسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔

مکہ مکرمہ کی علاقائی حکومت نے اپنے ٹویٹرصفحہ پراطلاع دی ہے کہ’’اب تک دو اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں اور ہم سب سے اپیل کرتے ہیں کہ جب تک ضروری نہ ہو وہ گھروں سے باہر نہیں نکلیں‘‘۔

مکہ ریجن میں جدہ شامل ہے۔ یہ قریباً 40 لاکھ افراد پر مشتمل مملکت کا دوسرا بڑا شہر ہے، اورمکہ شہر اسلام کا سب سے مقدس شہر ہے جہاں ہر سال لاکھوں فرزندان توحید حج اورعمرہ کی ادائی کے لیے آتے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں کو ملانے والی شاہراہ بارش شروع ہونے کے بعد بند کر دی گئی تھی، تاہم بعد میں اسے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔اسی شاہراہ کو بہت سے عازمین حج وعمرہ مکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سرکاری چینل الاخباریہ نے مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام میں عبادت گزاروں کی فوٹیج دکھائی جس میں وہ کعبۃ اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔

جدہ میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویرمیں دیکھاجاسکتا ہے کہ کھڑے پانی سے ٹریفک متاثر ہو رہا ہے۔بعض تصاویرمیں جدہ میں شاہراہوں پرپانی کھڑا دیکھاجاسکتا ہے اور اس سے ٹریفک متاثر ہورہاہے اور کچھ گاڑیاں جزوی طور پر ڈوبی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔

شہر کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے سے خراب موسمی حالات کے پیش نظرکچھ پروازوں کی روانگی میں تاخیر ہوئی ہے۔انتظامیہ نے مسافروں پر زوردیا کہ وہ اپنی پروازوں کے تازہ شیڈول کے لیے متعلقہ فضائی کمپنی سے رابطہ کریں‘‘۔

سعودی پریس ایجنسی نے طلوع فجر سے قبل اطلاع دی تھی کہ شہر کے اسکولوں کوعارضی طورپربند کردیا جائے گا کیونکہ بارشوں کا سلسلہ دن بھرجاری رہنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق نزدیک واقع شہر رابغ اور خلیص میں بھی اسکولوں کو بندکردیا گیا ہے تاکہ طلبہ وطالبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

قطر میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے خلاف میچ میں سعودی عرب کی شاندار فتح کی خوشی میں شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے بدھ کو تمام طلبہ اورملازمین کے لیے تعطیل کےاعلان کیا تھااورملک بھر میں تعلیمی ادارے بند رہے تھے۔

واضح رہے کہ جدہ میں قریباً ہرسال موسم سرما میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب آتے ہیں۔اس کے مکین ایک طویل عرصے سے ناقص انفرااسٹرکچر کی شکایات کررہے ہیں۔

یادرہے کہ سنہ 2009 میں شہر میں بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب میں 123 افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے اور اس کے دو سال بعد مزید 10 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں