مزید تین ایرانی حکام پر امریکی پابندیوں کا نفاذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکہ نے مزید تین ایرانی حکام پر پابندیاں عاید کر دی ہیں۔ یہ اعلان بدھ کے روز سامنے آیا ہے۔ امریکی اعلان کے مطابق یہ تین ایرانی حکام مظاہرین کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاون کا حصہ ہونے کی وجہ سے امریکی پابندیوں کی زد میں لائے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ 'ایرانی رجیم اپنے ہی احتجاج کرنے والے ایرانی بچوں کو بندوقوں سے نشانہ بنا رہی ہے جو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد گلیوں اور سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلتے ہیں اور اپنے لیے بہتر مستقبل کا مطالبہ کرتے ہیں۔'

امریکی محکمہ خزانہ کے انڈر سیکرٹری بریان نیلسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ' ایران میں مظاہرین کے لیے خلاف تشدد جاری ہے، اس سلسلے کے تازہ ترین واقعات مہ آباد میں سامنے آئے ہیں۔ انہیں ضرور روکا جانا چاہیے۔'

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق 'اسی مقصد کے لیے ایرانی حکام پر یہ نئی پابندیاں لگائی ہیں کہ وہ کرد ریجن میں تشدد کے مرتکب ہو رہے ہیں۔'

واضح رہے 16 ستمبر 2022 سے ایران میں مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف مسلسل احتجاج جاری ہے۔ حالیہ چند دنوں میں صرف کرد علاقوں میں مزید درجنوں مظاہرین کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا نیا اعلان سنانداج کے گورنر حسن اصغری، علی رضا مرادی سنانداج کے پولیس سربراہ، اور محمد تقی شامل ہیں۔ محمد تقی پاسداران کے مقامی کمانڈر ہیں۔

ماہ اکتوبر سے امریکہ نے درجنوں ایرانی حکام پر پابندیاں لگائی ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں متعلقہ حکام کے بیرون ملک بنک اکاونٹس اور جائیدادوں کو منجمد کرنے کے علاوہ ان کی سفر پر بھی پابندی ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں