"واپس لایا جائے یا نہیں" شمیمہ بیگم کے کیس نے برطانوی حکام کو چکرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ واپسی کی ان کی تمام سابقہ کوششوں کی ناکامی کے بعد اور خاص طور پر شہریت چھننے کے بعد اب ایک نئے انٹیلی جنس بیان نے "داعش کی دلہن" کے نام سے معروف شمیمہ بیگم کے لئے شاید امید کے دروازے کھول دئیے ہیں۔

برطانوی انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ نے 23 سالہ خاتون شمیمہ کی الحول کیمپ سے شام میں داعش کے خاندانوں میں واپسی کے بارے میں سابقہ تمام انتباہات کے بالکل برعکس رائے دے دی۔ رچرڈ بیرٹ نے خبردار کیا کہ اگر شمیمہ بیگم کو شام میں چھوڑ دیا گیا تو یہ قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوگا۔

زیادہ خطرناک ہو جائے گی

برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس کے انسداد دہشت گردی کے عالمی ادارے کے سابق ڈائریکٹر نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی ملٹری انٹیلی جنس میں پانچویں دفتر ایم آئی فائیو نے تخمینہ لگایا ہے کہ بیگم کی جانب سے پیدا سیکیورٹی خطرات "سطحی اور نامناسب" ہیں۔

مزید برآں انہوں نے سابق ’’داعش کی دلہن‘‘ کی قانونی ٹیم کی تیار ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، اس رپورٹ میں اس امکان کے متعلق لکھا گیا تھا کہ اگر یہ نوجوان خاتون داعش کیمپ میں رہتی ہے تو وہ ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جائے گی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شمیمہ کو ایک فرد کی حیثیت سے اپنی قومیت سے محروم کر دیا گیا اور اس کی کوئی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ وہ ایک نوعمر لڑکی سے ایک خوفناک دہشت گرد تنظیم کی رکن میں کیسے تبدیل ہوئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ان کے ملک نے امریکہ، جرمنی اور فرانس کے مقابلے میں داعش میں شامل ہونے کے لیے سفر کرنے والے شہریوں کی واپسی کے مسئلے پر دوسرے ممالک سے مختلف ردعمل دیا۔

انہوں نے اس امکان کی طرف بھی اشارہ کیا کہ قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے، شام میں آئی ایس آئی ایس کے کیمپوں سے افراد کو واپس بھیجنے سے انکار کرنا درمیانی سے طویل مدت میں انہیں گھر بھیجنے اور انہیں قانونی چارہ جوئی، بحالی اور دوبارہ انضمام سے مشروط کرنے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ لوگ وہاں اپنی زندگی سے عدم اطمینان کی وجہ سے زیادہ خطرناک ہو جائیں گے جب کہ وہ غذائیت کی کمی، صحت کی سہولیات کی کمی اور نفسیاتی نقصان کا شکار ہیں ۔

یاد رہے کہ شمیمہ جو شمال مشرقی شام میں تنظیم کے بے گھر خاندانوں کے کیمپ میں ہیں، اپنے ملک سے معافی کی درخواست اور اپنی قومیت کی بحالی کے بعد بھی سخت کوششیں کر رہی ہیں۔

اس کی کہانی نے برطانوی انٹیلی جنس کی رائے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے، پہلا حصہ شمیمہ کی دوبارہ انضمام کی امید میں اس کی واپسی کے ساتھ ہے، یہ حلقہ خاص طور پر شمیمہ کے بچپن میں تنظیم میں شمولیت کا سہارا بھی لیتا ہے۔

دوسرا فریق اس نظریہ کو اس بنیاد پر مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ شمیمہ کی واپسی ملک کے لیے بڑا خطرہ ہے کیونکہ وہ الہول کیمپ میں ہی رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔

گزشتہ ہفتے شمیمہ بیگم کے وکلا نے برطانوی حکومت کے اس کی شہریت چھیننے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔

یاد رہے برطانوی حکومت نے 2019 میں قومی سلامتی کی بنیاد پر اس کی شہریت اس وقت چھین لی تھی جب وہ شام کے ایک حراستی کیمپ میں پائی گئی تھیں

مقبول خبریں اہم خبریں