اقوم متحدہ کی ساٹھ لاکھ جنگ زدہ شامیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے فوری فنڈنگ کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوم متحدہ کے ادارے 'اوچھا' نے اپیل کی ہے کہ موسم سرما کے دوران شام کے جنگ سے متاثرہ ساٹھ لاکھ افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے فوری فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ شام میں گیارہ سال تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی وجہ سے بے گھر اور بے در ہو کر انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ نے شام میں سردی کی لہر میں شدت کے باعث ان ساٹھ لاکھ افراد کے لیے انسانی بنیادوں پر فوری بڑی امدادی رقوم کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے مطابق رواں سال کے دوران اقوام متحدہ کی اپیل کردہ رقم کا صرف 42 فیصد ملا ہے جو ان جنگ متاثرہ افرد پر خرچ کیا گیا ہے۔ لیکن سردی کی شدت کے کے دوران ضروری ہے کہ ان کی زندگیاں بچانے کے لیے وسائل فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔

شام میں 'اوچھا' کے قائم مقام کوآرڈینیٹر نے المصطفیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا ' شام کے جنگ زدہ لوگوں کا مسلسل مشکلات کا یہ بارہواں سال ہے۔

دوسری جانب 'اوچھا' کے کوآرڈینیٹر محمد ہادی نے کہا ہے 'ان لاکھوں جنگ متاثرہ اور بے گھر افراد سخت کسمپرسی کا سامنا کر رہا ہے۔ انہیں سردی کے شدید موسم میں فنڈز کی فراہمی کے بغیر بچانا مشکل ہو گا۔'

شام میں سردی کی شدت کے دوران جنگ زدہ لوگ راشن اور ایندھن کی بدترین قلت کا سامنا ہے۔ اس شدید سردی کے موسم میں ان متاثرہ خاندانوں کے لیے اپنے چولہوں اور گھروں کو گرم رکھنے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ شدید سردی کے موسم میں ان متاثرہ لوگوں کے لیے بجلی اور ایندھن کی فراہمی کا معاملہ راشن کے علاوہ بہت اہم ہے۔

واضح رہے شام کی خانہ جنگی کے ان گیارہ برسوں میں 90 فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے کی زندگی گذار رہی ہے۔ اقوم متحدہ کے فراہم کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق 12،4 ملین شہری خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں