ایران خواتین پر تشدد اور مظاہرین پر جارحیت ختم کرے: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی حکام کے وحشیانہ جبر کے باوجود ایرانی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔ جمعرات کو ایک بیان میں انہوں نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین پر جبر اور خواتین اور لڑکیوں پر تشدد بند کریں۔

انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ امریکہ ایران کو خواتین کے حقوق کی اقوام متحدہ کی کمیٹی سے خارج کرنے کے لیے کام کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ " نام نہاد ایرانی اخلاقی پولیس کی حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد ہزاروں بہادر ایرانیوں نے جبر اور تشدد کے حکومت کے طویل ریکارڈ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اپنی جانوں اور آزادی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔"

ایران میں خطرناک صورتحال

جمعرات کو منعقد انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس اجلاس سے کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ انسانی حقوق کونسل کے اراکین ایران کی صورت حال کی سنگینی سے آگاہ ہیں۔

ایران کی کرمشاہ یونیورسٹی میں طلبہ مظاہرے: اے ایف پی
ایران کی کرمشاہ یونیورسٹی میں طلبہ مظاہرے: اے ایف پی

انہوں نے کہا آج قائم کیا گیا فیکٹ فائنڈنگ مشن اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا کہ ایرانی عوام پر جاری پرتشدد جبر میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے اور ان کے اقدامات کو ثابت کیا جائے۔

ایک روز قبل امریکی وزارت خزانہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پس منظر میں مزید تین ایرانیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

جبر میں ملوث افراد کو سزائیں

وزارت خارجہ کے اثاثہ جات کے کنٹرول کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پابندیوں کی فہرست میں کردستان صوبے کے دارالحکومت سنندج کے میئر علی اصغری، شہر کے پولیس سربراہ علی رضا مرادی اور پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کے کمانڈر محمد تقی اوصانلو شامل ہیں۔

پولیس حراست میں 16 ستمبر کو مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو ایرانی فورسز نے پر تشدد کارروائیوں سے دبانے کی کوشش کی ہے۔

ایرانی احتجاج اور مہسا امینی کی تصویر: اے ایف پی
ایرانی احتجاج اور مہسا امینی کی تصویر: اے ایف پی

ایران میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اپنے تازہ ترین اعداد وشمار میں بتایا ہے کہ ایران میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں 416 افراد ہلاک ہو چکے جن میں 51 بچے اور 21 خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں