روس اور یوکرین

کیف: ڈرونز میں مہارت رکھنے والے ایرانی فوجی اہلکار کریمیا میں مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے سکریٹری اولیکسی دانیلوف نے جمعرات کو ایرانی فوجی مشیروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جو روس کو ڈرون اڑانے میں مدد دینے کے لیے کریمیا میں موجود تھے۔

کسی بھی ایرانی فوج کو نشانہ بنایا جائے گا

برطانوی اخبار دی گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے دانیلوف نے دھمکی دی کہ روس کے زیر کنٹرول یوکرینی سرزمین پر موجود کسی بھی ایرانی فوجی کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ہمیں ان کو مارنا ہے

دانیلوف نے مزید کہا "وہ ہماری سرزمین پر تھے ، اگر انہوں نے روسیوں کے ساتھ تعاون کیا اور ہمارے ملک کی تباہی میں حصہ لیا تو ہمیں انہیں مار ڈالنا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانیوں کا اصرار ہے کہ وہ روس کو ہتھیار فراہم نہیں کرتے، ہمیں اس کی تصدیق کرنا چاہیے۔ تاہم آج تک ان کی اس کہانی کو سچ کہنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔

آپ بغیر تربیت کے پرواز نہیں کریں گے

انہوں نے کہا کہ وہ ڈرونز جن کی روس کو فراہمی کا ایران پر الزام لگایا جاتاہے چلانے کا طریقہ سیکھے بغیر ان کو اڑایا نہیں جا سکتا۔ جدید دنیا میں آپ کچھ بھی نہیں چھپا سکتے۔

واضح رہے ایران نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے روس کو ڈرون بھیجے تھے لیکن اس بات پر زور دیا تھا کہ اس نے یہ ڈرونز یوکرین میں روسی آپریشن سے قبل اپنے اتحادی کو فراہم کئے تھے۔

کئیف نے کہا ہے کہ دوران جنگ تقریباً 400 ایرانی ڈرون یوکرین میں شہریوں کے خلاف استعمال کیے جا چکے ہیں اور ماسکو نے تقریباً 2000 مزید ڈرونز کا آرڈر کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں