"ہماری زندگی تباہ ہوگئی" داعشی دلہن کی ماں نے خاموشی توڑ دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جہاں برطانیہ میں ’داعش کی دلہن‘ شمیمیہ بیگم سے اس کی شہریت چھیننے کا معاملہ عدالت میں زیر بحث ہے وہیں ان کے وکیل نے وزارت داخلہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔ دوسری طرف شمیمہ کی والدہ نے اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔

حال ہی میں اسپیشل امیگریشن اپیل کمیٹی (SIAC)، (یا اسپیشل امیگریشن اپیل کمیشن) کے سامنے دیے گئے بیانات میں اس کی والدہ اسماء، نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹی، جس نے اپنی دو دوستوں کے ساتھ 15 سال کی عمر میں ملک چھوڑا تھا، اس کے لیے وہ ہروقت پریشان رہتی ہیں۔

ہماری زندگی تباہ ہوگئی ہے

انہوں نے مزید کہا کہ میں تقریباً ہر گھنٹے اس کے بارے میں سوچتی ہوں کہ میری بیٹی کا کیا بنے گا؟ جب شمیمہ نے 2015 میں گھر چھوڑا تو ان کی زندگی اور دنیا تباہ ہو گئی ہیں۔

چار بچوں کی ماں نے تصدیق کی کہ وہ ہر سال اپنی چھوٹی بچی کی سالگرہ مقامی میڈیا کے مطابق مناتی ہے۔

کیا وہ واقعی اسمگلنگ کا شکار تھی؟

"اس کی اسکول کی جیکٹ اب بھی مشرقی لندن کے بیتھنال گرین میں فیملی ہوم میں دروازے کے پیچھے لٹکی ہوئی ہے۔

جہاں تک اس کی آخری سالگرہ کا تعلق ہے جو اس نے اپنی روانگی سے پہلے خاندان کے ساتھ گزاری تھی شمیمہ اس دن بہت خوش تھی۔

قابل ذکر ہے کہ شمیمہ جو ابھی تک شمال مشرقی شام میں بے گھر ’داعش‘کے خاندانوں کے کیمپ میں ہے۔ وہ اپنی قومیت کی واپسی اور بحالی کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے مگر برطانیہ نے2019ء میں اس کی شہریت چھین لی تھی اور دوبارہ شہریت دینے سے انکار کردیا تھا۔

شمیمہ بیگم کے حوالے سے برطانیہ میں دو طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے اس کی شہریت اسے واپس دلانے کی حمایت پرمبنی ہے جب کہ دوسرا طبقہ اسے ایک شدت پسند اور برطانیہ کے لیے امن دشمن خیال کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں