اماراتی صدر کی51 ویں قومی دن پرتقریر؛’امیداور رجائیت پسندی‘کے ساتھ مستقبل پرنظر

شہریوں کا خیال رکھنا،ان کے سامنے ترقی،تخلیقی صلاحیتوں اورخود اعتمادی کی تمام راہیں کھولنا ہماری اولین ترجیح رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے صدرشیخ محمد بن زاید آل نہیان نے کہا ہے کہ ہمارے لیے51 واں قومی دن امید،رجائیت پسندی اوراعتماد کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھنے، ماضی سے سبق سیکھنےاور شعوراورغوروفکر کے ساتھ حال کو دیکھنےکا وقت ہے۔

انھوں نے جمعرات کو اپنے ملک کے قومی دن کے موقع ایک نشری تقریر میں کہا کہ اپنے شہریوں کا خیال رکھنا اوران کے سامنے ترقی، تخلیقی صلاحیتوں،خوداعتمادی کی تمام راہیں کھولنا ہماری اولین ترجیح رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہم اس مقصد کے حصول میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

انھوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ متحدہ عرب امارات ہراس چیز کا کلیدی شراکت دار اور حامی رہے گا جوانسانیت کے لیے ترقی لاتا ہے ، اور اس کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کی صلاحیت میں اضافہ کرتاہے۔ان میں سب سے اہم موسمیاتی تبدیلی،غذائی تحفظ ، بیماریاں ، وبائی امراض اورغُربت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قومی دن فخر اورخوشی کا موقع ہے۔ یہ توانائیوں کوتازہ کرنے، نئے عزم کو تلاش کرنے اور ہماری کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر اماراتی کی روح اور وطن کے ساتھ عہد کی تجدید کرنے کا بھی ایک موقع ہے۔ وہ علاقے میں احیاء کے لیے ایک علامت اور نمونہ بن چکے ہیں اور یہاں کے لوگوں کے خوش حال مستقبل کی امید کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

’’بھائیواوربہنو!متحدہ عرب امارات ایک عظیم اور قیمتی اعتماد ہے جو ہمارے والد اور دادا نے ہمیں دیا ہے۔ہم اسے اپنے بیٹوں اور پوتے پوتیوں کےسپرد کریں گے جو ہمارے پیچھے جھنڈا لے کر مارچ جاری رکھیں گے اور جو کچھ ہم نے تعمیرکیا ہے،اس پر نئی تعمیراستوارکریں گے،بالکل اسی طرح جیسے ہم نے ان ٹھوس بنیادوں اور ستونوں پر تعمیر کیا تھا جو ہمارے آباء واجداد نے ہمارے لیے چھوڑا تھا۔قوم، تاریخ اور آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس اعتماد کو پوری طاقت، کوشش اورعزم کے ساتھ محفوظ رکھیں جو خدا نے ہمیں عطا کی ہے‘‘۔انھوں نے مزید کہا۔

شیخ محمد نے متحدہ عرب امارات کے مرحوم صدر شیخ خلیفہ بن زایدآل نہیان کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جواس سال مئی میں طویل علالت کے بعدانتقال کر گئے تھے۔انھوں نے ہمارے دلوں میں، اور دنیا بھر میں ان سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں، ان کے اچھے سفر کی یادوں کوچھوڑا ہے۔انھوں نے ہماری اچھی زمین کے ہر انچ پرانمٹ نقوش ثبت کیے ہیں۔وہ متحدہ عرب امارات کی تعمیراوراس کے ستونوں کو مضبوط بنانے میں ہر قدم پرمرحوم بانی شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے شانہ بشانہ تھے۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات گذشتہ 50 سال کے دوران میں اپنے قیام سے لے کربااختیار بننے تک کے فاتحانہ سفر میں بہت سے مراحل سے گزراہے۔

مستقبل پرنظر

انھوں نے کہا کہ ان شاءاللہ یواے ای تعمیروترقی، کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور ترقی کی عظیم جست لگانے کے اپنے بلندعزائم پرعمل پیرا رہے گا۔وہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوزرکھے گا اور ان شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھائے گا تاکہ موجودہ اورمستقبل کی نسلیں فائدہ اٹھا سکیں۔متحدہ عرب امارات احتیاط سے ترقیاتی ترجیحات کی وضاحت کر رہا ہے، اوراپنے تمام مقاصد اورعزائم کو حاصل کرنے کے لیے بنیادی راستے کے طورپرشعبہ تعلیم کوترقی دے رہا ہے اورتعلیمی عمل کے نتائج میں ایک معیاری چھلانگ لگارہا ہے۔وہ آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنا رہا ہے، علم پر مبنی معیشت کی تعمیر کر رہا ہے، اور دنیا بھر میں ترقیاتی مسابقت میں مصروف ہے‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ اماراتی شہریوں کا خیال رکھنا اور ان کے سامنے ترقی، تخلیقی صلاحیتوں اورخود اعتمادی کی تمام راہیں کھولنا ملک کی اولین ترجیح رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

"ہم ایسے منصوبوں کی تیاری اور ان کے نفاذ کا عمل جاری رکھیں گے جو شہریوں کو بااختیار بنانے اور بغیرکسی استثناء کے تمام شعبوں میں ان کے لیے دستیاب مواقع کو بڑھانے کے اردگرد گھومتے ہیں، کیونکہ بااختیار بنانا ایک مخصوص وقت کے فریم کے ساتھ ایک عبوری پالیسی نہیں ،بلکہ ایک جاری اور پائیدار نقطہ نظر ہے‘‘۔

شیخ محمد نےاعلان کیاکہ ’’ملک کی ترقی کے اگلے مرحلے کے دوران میں اماراتی خواتین کے کردار کو تمام شعبوں میں مضبوط کیا جائے گا کیونکہ کوئی بھی معاشرہ خواتین کی شرکت کے بغیر اس سطح تک آگے نہیں بڑھ سکتا جس کی وہ خواہش رکھتا ہے۔اگلے مرحلے کے دوران میں تعلیم یافتہ اور قابل نوجوانوں پر انحصار مضبوط ہو جائے گا کیونکہ وہ قومی دولت کے سب سے اہم عناصر ہیں، اور مستقبل کی طرف ترقی کو یقینی بنانے میں اہم عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ہمارا ملک دنیا بھرسے باصلاحیت افراد، صلاحیتوں اور روشن ذہنوں کواپنی طرف متوجہ کرتا رہے گا،اور ہمارے ترقیاتی عمل میں حصہ لینے اور وقار، رواداری اور محبت کے ساتھ اپنی سرزمین پر کام کرنے اور رہنے کے لیے ہر اس ہاتھ کا خیرمقدم کرے گا جو تعمیری اور جدّت طرازہے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ کووِڈ 19 کے منفی نتائج اور معاشی بحران سمیت دیگرعلاقائی اور عالمی بحرانوں کے باوجود متحدہ عرب امارات کی معیشت نے تیزی سے ترقی کی ہے۔بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق عالمی مسابقت،اثرورسوخ کی طاقت ، معاشی نمو ، مستقبل کے لیے پرامیدی اور دیگر کے ہمارے اشاریے وبائی امراض سے پہلے کے مقابلے میں بہترہوئے ہیں۔ یہ تمام معیارات کے لحاظ سے ایک منفرد کامیابی ہے کیونکہ یہ ایک منفی عالمی ماحول میں ہوا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای ہراس چیز کا کلیدی شراکت دار اور حامی رہے گا جو انسانیت کے لیے ترقی لاتی ہے اوراس کے چیلنجوں سے نمٹنے کی دنیا کی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ان میں سب سے اہم موسمیاتی تبدیلی ، غذائی تحفظ ،عام بیماریاں ، وبائی امراض اورغربت ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ یواے ای امن واستحکام کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا پائیدارکردارجاری رکھے گااورتنازعات کو ان کی نوعیت ، مقام اور پیچیدگی کی ڈگری سے قطع نظر سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے کام کرے گا۔ یہ علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں افہام و تفہیم اور مکالمے کے مواقع کو بڑھانے کے لیے ہر سمت میں آگے بڑھے گااور رواداری اوراعتدال پسندی کے فروغ اورانتہاپسندی اورعدم برداشت کو مسترد کرنے پر زور دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں