امریکااور روس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں قیدیوں کے ممکنہ تبادلے پررابطے میں ہیں:لافروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزیرخارجہ سرگئی لافروف نے کہا ہےکہ امریکا اورروس کی انٹیلی جنس سروسز کے درمیان قیدیوں کے ممکنہ تبادلے کے بارے میں بات چیت کی جاری ہے اورانھیں امید ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

ماسکو میں امریکی ناظم الامورایلزبتھ روڈ نے روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ریاکوبتایاہےکہ جیل میں قیدامریکیوں برٹنی گرینراورپال ویلن کی رہائی کے سمجھوتے کے بارے میں ’’نامزد چینل‘‘ کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ماسکو نے واشنگٹن کی کسی بھی تجویز پر 'سنجیدہ ردعمل' ظاہرنہیں کیا ہے۔

باسکٹ بال اسٹارگرینر کو گذشتہ ماہ روسی علاقے مورڈوفیا کی ایک کالونی میں منتقل کیا گیا تھا۔انھیں فروری میں بھنگ کے تیل پرمشتمل ویپ کارتوس کے ساتھ گرفتارکیا گیا تھا اورمنشیات رکھنے کے جرم میں انھیں نوسال قید کی سزاسنائی گئی تھی۔

انھوں نے مقدمے کی سماعت کے دوران میں کہا تھا کہ انھوں نے کھیل کی چوٹ کے دردکو دور کرنے کے لیے اس تیل کا استعمال کیا تھا اور اس کا مقصد قانون توڑنا نہیں تھا۔

سابق امریکی میرین وہیلان جاسوسی کے الزام میں اسی علاقے میں 16 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جس کی وہ تردیدکرتے ہیں۔

روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے 18 نومبر کو کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہو جائے گا جس کے نتیجے میں امریکا کی جیل میں قیدروسی اسلحہ کے اسمگلر وکٹر بوٹ کی رہائی ممکن ہوسکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں