مصرمیں روبوٹس کی آمد سے ملازمین کا مستقبل مخدوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی تحقیقی مرکز کاسپرسکی کی جانب سے تیار کردہ ایک سروے کے مطابق مصر میں ملازمین کا خیال ہے کہ مختلف کام کرنے کے لیے روبوٹ جتنے بہتر ہوتے جائیں گے، انسانوں کے لیے ملازمت کے مواقع اتنے ہی کم رہ جائیں گے۔

سروے میں شامل 75 فیصد ملازمین کی اکثریت کا خیال ہے کہ مختلف شعبوں میں روبوٹس کے استعمال کو بڑھایا جانا چاہیے تاہم انہوں نے ہیکنگ کے واقعات کا خدشہ ظاہر کیا۔

روبوٹس معیار اور کارکردگی بڑھائیں گے

روبوٹس کا استعمال صنعتی کنٹرول سسٹم اور دیگر انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹمز میں پیداواری عمل سے نمٹنے، دستی کام کی جگہ لینے، کارکردگی اور رفتار بڑھانے اور معیار اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

کاسپرسکی نے ایک مطالعہ کیا جس میں دنیا بھر میں مینوفیکچرنگ کمپنیوں اور بڑی تنظیموں کے ملازمین کی رائے کا سروے کیا گیا کہ کام کو خودکار کرنے اور ربوٹس کے استعمال میں اضافے کے نتائج کے بارے میں ملازمین کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔ مطالعے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ لیبریونینز ربوٹس اور خودکار نظاموں کی حفاظت کے بارے میں کیا سوچتی ہیں۔ .

ملازمین نے گذشتہ دو سال میں اپنی تنظیموں میں ربوٹس پر انحصار کی سطح میں اضافے کی اطلاع دی۔ 38 جواب دہندگان نے کہا کہ ان کی تنظیم روبوٹس استعمال کرتی ہے۔ 39 فی صد نے کہا کہ ان کی تنظیم مستقبل قریب میں انہیں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سروے میں مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل

اس سروے میں جس میں مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور جنوبی افریقہ لوگوں سے رائے لی گئی میں کہا گیا ہےکہ ملازمین کو روبوٹس کی وجہ سے ملازمتوں میں کمی کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر روبوٹس مختلف کاموں کو مکمل کرنے میں جتنے کامیاب ثابت ہوتے ہیں انسانوں کے لیے اتنی ہی کم ملازمتیں رہنے کا امکان ہے۔

مصر میں ملازمین کی اکثریت 94 فی صد کا خیال ہے کہ روبوٹ بالآخر اپنے شعبوں میں انسانوں کی جگہ لے لیں گے۔ انسانوں کو نئے علم اور مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ روبوٹس کے ہاتھوں اپنی ملازمتوں سے محروم نہ ہوں۔ 71 فی صد رائے دہندگان نے کہا کہ وہ نئی مہارتیں سیکھنے یا اپنی موجودہ مہارتوں اور تجربے کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔

بہت سے ملازمین پرامید ہیں کیونکہ روبوٹ ملازمتیں سنبھالتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روبوٹس کو اپنانے سے انسانی کردار زیادہ محفوظ اور ہوشیار ہوں گے، جبکہ پیداواری کارکردگی میں اضافہ ہوگا، جب کہ 73 فی صد کا خیال ہے کہ روبورٹس کے آنے سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ پروگرامرز، ڈیٹا سائنسدانوں اور انجینیرز کے لیے مزید ملازمتیں ابھریں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں