امریکہ کی حزب اللہ کی مالی مدد پر لبنان میں مقیم دو افراد اور دو کمپنیوں پر پابندی

امریکی وزارت خزانہ کی گروپ کیلئے ہتھیاروں کی خریداری میں ملوث ایک شخص کیخلاف بھی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو امریکہ نے لبنانی حزب اللہ گروپ کو مالیاتی خدمات فراہم کرنے اور گروپ کے لیے ہتھیاروں کی خریداری میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں افراد اور کمپنیوں پر مزید پابندیاں عائد کر دیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ وزارت خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے حزب اللہ کو مالیاتی خدمات فراہم کرنے پر لبنان میں مقیم دو افراد اور دو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ گروپ کے لیے ہتھیاروں کی خریداری میں سہولت کاری میں ملوث ایک اور شخص کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

یاد رہے گروپ کی بنیاد 1982 میں ایرانی پاسداران انقلاب نے رکھی تھی اور امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس گروپ کو "دہشت گرد تنظیم" کے طور شمار کرتے ہیں۔

غیر ملکی اثاثوں کو کنٹرول کرنیوالا دفتر عام طور پر امریکیوں یا امریکہ کے اندر ان تمام لین دین کو ممنوع قرار دیتا ہے جو ملوث اداروں کی کسی بھی جائیداد یا مفادات سے متعلق ہوں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق جن افراد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں سے ایک عادل محمد منصور حزب اللہ کے زیر انتظام ایک نیم مالیاتی ادارے کی قیادت کرتا تھا، حسن خلیل حزب اللہ کے لیے ہتھیار خریدنے کا کام کرتا تھا اور ناصر حسن جو اس گروپ کو مالی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے ساتھ کام کرتا تھا۔

گزشتہ ماہ بھی امریکہ نے تیل کی سمگلنگ کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ "حزب اللہ" اور ایرانی "قدس فورس" کی حمایت کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں