یمن اور حوثی

امریکی بحریہ کا ایران سے یمن جانے والی ماہی گیروں کی کشتی پرقبضہ،بھاری اسلحہ برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی بحریہ نے ہفتے کے روز ایران سے جنگ زدہ یمن جانے والے ماہی گیری کے ایک ٹرالرکو روک لیا ہے۔اس پر لدے ہوئے راکٹ فیوز اورراکٹ کو دھکیلنے والے حصوں کے ساتھ دس لاکھ گولیوں اور بارودی مواد کو ضبط کیا ہے۔یہ اسلحہ مبیّنہ طور پر اسمگل کرکے یمن لے جایا جارہاتھا۔

بحرین میں قائم امریکا کے پانچویں بحری بیڑے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کارگو کا جمعرات کے روز’’پرچم کی تصدیق بورڈنگ کے دوران‘‘ میں پتا چلاتھا۔اس سمندری راستے پرایک ماہ کے دوران میں غیرقانونی ہتھیارضبط کرنے کی یہ دوسری بڑی کارروائی ہے۔

پانچویں بحری بیڑے کے کمانڈروائس ایڈمرل براڈ کوپر نے کہا:’’یہ اہم مداخلت واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ایران کی جانب سے مہلک امداد کی غیر قانونی منتقلی اور عدم استحکام پیدا کرنے کا سلسلہ جاری ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’امریکا کی بحری فوج اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کرخطے میں خطرناک اورغیرذمہ دارانہ بحری سرگرمیوں کو روکنے اوران میں خلل ڈالنے پرتوجہ مرکوز کیے ہوئے ہے‘‘۔

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سنہ 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔اس کے بعد سے اب تک جاری جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اوراس غریب قوم کو قحط کے دہانے پر دھکیل دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں اپریل میں ہونے والی جنگ بندی سے تشدد آمیز کارروائیوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی۔اس جنگ بندی کی میعاد اکتوبر میں ختم ہو گئی تھی، تاہم لڑائی اب بھی تعطل کا شکار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’پکڑے گئے ماہی گیروں کے ٹرالرسے قریباً 7،000 راکٹ فیوز اور2،100 کلوگرام سے زیادہ محرکی آلات برآمد ہوئے ہیں جو راکٹ سے چلنے والے بم چھوڑنے میں استعمال ہوتا ہے‘‘۔

نیزواضح کیا گیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کو ہتھیاروں کی براہ راست یا بالواسطہ ترسیل، فروخت یا منتقلی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی بحریہ نے حوثیوں کو بھیجی گئی ایران سے ’دھماکاخیزمواد‘لے جانے والی ایک کشتی کوتباہ کردیاتھا۔اس پردرجن بھر بیلسٹک راکٹوں کو ایندھن مہیاکرنے کے لیے کافی موادموجود تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں