حزب اسلامی کے ہیڈ کوارٹر پر کابل میں حملہ، حکمت یار محفوظ رہے، دو حملہ آور ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خود کش حملے میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہے۔ یہ کود کش بم دھماکہ جمعہ کے روز حزب اسلامی کے کابل میں قائم دفتر کے نزدیک ہوا ہے۔ حزب اسلامی سابق وزیر اعظم افغانستان گلبدین حکمت یار کی جماعت ہے۔

سابق وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا ہے کہ اسی روز کابل میں پاکستان کے سفارت خانے پر بھی حملہ کرنے کی کوشش جو بظاہر ناکام ہوئی ہے۔ اس حملے دوران کئی حملہ آور ہلاک ہو گئے جبکہ محفاظین زخمی ہو گئے ہیں۔

اپنے ایک ویڈیو بیان میں گلبدن حکمت یار نے کہا ہے 'ہمارے دفتر پر حملے کے دوران ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ میں اپنے ہم وطنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جس طرح اس طرح کے حملے جس طرح پہلے ناکام ہو چکے ہیں یہ حملہ بھی ناکام رہا ہے۔'

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا ' ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ کرنے والوں کے پیچھے کون ہے۔' انہوں نے مزید کہا 'اس طرح کے حملے ہمارے حوصلے اور مزاحمت کو کمزور نہیں کر سکتے ہیں۔ '

واضح رہے کابل پولیس اور وزارت داخلہ نے ابھی تک اس بارے میں کچھ رد عمل ہے اور نہ ہی تبصرہ کیا ہے۔ جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کابل میں اس پاکستان کے سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا تو ہیڈ آف مشن حملہ آوروں کا نشانہ تھے۔' عبیدا الرحمان نظامانی اس حملے میں محفوظ رہے اور بچ نکلے جبکہ ایک محافظ شدید زخمی ہو گیا ہے

عبیدالرحمان نظامانی پچھلے ماہ ہی کابل پہنچے تھے۔ وہ کابل میں سفاتخانہ کا نظم سنبھالنے گئے تھے جو طالبان کی حکومت سے اب تک کسی کے پاس نہ تھا۔

دوسری جانب حزب اسلامی کے دفتر پر کیے گئے حملے کے وقت پارٹی کے ایک سینئیر رہنما دفتر میں موجود تھے لیکن وہ محفوظ رہے۔ یہ حملے کی زد میں انے والا دفتر ایک مسجد سے متصل ہے۔

طالبان اور حزب اسلامی کے ایک ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ ایک حملہ آوروں سے تعلق رکھنے والی ایک بارود بھری گاڑی کو دفتر کے نزدیک دھاکے سے اڑایا گیا۔ بعد ازاں فائرنگ شروع ہو گئی اور اس دوران دو حملہ آوروں کو اس وقت فا ئرنگ سے نشانہ بنایا گیا جب وہ مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ دونوں حملہ آور مارے گئے۔

گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے کہ حملہ آور کود کش جیکٹ پہنے ہوئے تھے جبکہ ان میں سے ایک نے عورتوں والا برقعہ پہن رکھا تھا۔'

یاد رہے حالیہ مہینوں میں افغانستان میں متعدد حملے ہو چکے ہیں اور کئی بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ بدھ کے روزشمالی افغانستان میں ایک مدرسے پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں 15 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

دریں اثنا ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حزب اسلامی کے کابل دفتر پر حملے کے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ تین نا معلوم عسکریت پسندوں نے پارٹی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

پارٹی کے عہدے دار کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت حکمت یار پارٹی ہیڈ کوارٹر کے اندر تھے تاہم وہ محفوظ رہے ہیں۔ سینئیر پولیس آفیسر عبید اللہ مدبر نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ دو حملہ اور مارے گئے ہیں۔ جبکہ تیسرےکے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ پکڑا گیا ہے۔

گلبدین حکمت یار سوویت یونین کے خلاف لڑنے والی حزب اسلامی کے سربراہ ہیں اور 1990 کی دہائی میں وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ وہ افغانستان کی قد آور شخصیات میں نمایاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں