سعودی عرب میں اس طرح فالوورز بڑھانا آپ کو جیل بھی پہنچا سکتا

وائرل ٹک ٹاک ویڈیو میں فالوورز بڑھانے کیلئے بچے کو دکھا کر فوری مدد کی درخواست کی گئی تو حکام متحرک ہوگئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں گھریلو تشدد کی رپورٹنگ سنٹر نے انکشاف کیا کہ اس نے ایک بچے کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بارے میں گردش کرنے والی ویڈیو کی مانیٹرنگ کی ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد فالوورز کو راغب کرنے کیلئے بچے کا استحصال کرنا ہے۔

مرکز نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ کے جواب میں کہا "ضروری اقدامات کرنے کے لیے مجاز حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں ۔ آپ کی نگرانی رکھنے اور دلچسپی لینے کا شکریہ۔"

اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک بچے کا ویڈیو کلپ گردش کرتا دیکھا گیا تھا، یہ کلپ ٹک ٹاک پھر پھیلایا گیا ۔ اس کلپ میں بچے کو دکھا کر فوری مدد کی درخواست کی گئی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گھریلو تشدد کا رپورٹنگ سنٹر سعودی عرب کے تمام علاقوں میں تمام شہریوں اور رہائشیوں کو آفیشل کمیونیکیشن چینلز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہا ہے ۔ بچوں سے متعلق کسی بھی شکایت کیلئے ٹال فری نمبر 1919 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹویٹر اکاؤنٹ پر بھی شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں۔

بچوں کا استحصال جرم

قبل ازیں پبلک پراسیکیوشن آفس نے سوشل میڈیا پر بچوں کا کمرشل بنیادوں پر استحصال کرنے کے جرم کے خلاف خبردار کیا تھا اور بتایا تھا کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف چاہے وہ والدین ہی کیوں نہ ہوں فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے۔ وژول میڈیا اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ اس کی جانب سے ڈیجیٹل مواد کی نگرانی کی جاتی ہے۔

سعودی عرب میں انسانی حقوق کمیشن پہلے ہی کہ چکا ہے کہ وہ شہرت کی خاطر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ والدین ہوں یا رشتہ دار یا کوئی اجنبی بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

کمیشن نے بتایا کہ سعودی قوانین بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید سمیت مختلف سزائیں دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں