انڈونیشیا میں کوہِ سیمیروپرآتش فشاں پھٹ پڑا،الرٹ بلند ترین سطح پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈونیشیا کے کوہِ سیمیرو پراتوار کے روز آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں گرم راکھ کے بادل آسمان میں ایک میل تک پھیل گئے ہیں۔اس کے بعدحکام نے آتش فشاں کے الرٹ کوبلندترین سطح تک بڑھا دیا۔

یہ بلند ترین پہاڑ انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا میں دارالحکومت جکارتہ سے قریباً 800 کلومیٹرجنوب مشرق میں واقع ہے۔آتش فشاں کے پھٹنے کی جگہ کے نزدیک واقع دیہات کو خالی کرایا جارہاہے۔

انڈونیشیا کےآتش فشاں اور جیولوجیکل ڈیزاسٹرمیٹی گیشن سینٹر(پی وی ایم بی جی) کے ترجمان ہیندراگناوان نے براڈکاسٹرکمپاس ٹی وی کو بتایا کہ خطرے کی بڑھتی ہوئی سطح کا مطلب ہے کہ اس سے لوگوں کی آبادکاری کوخطرات لاحق ہیں اور آتش فشاں کی سرگرمی میں اضافہ ہواہے۔

کیوڈونیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے خبردارکیا ہے کہ اوکیناوا کے جنوبی خطے میں واقع میاکواوریایاما کے جزیروں میں سونامی آسکتا ہے۔

آتش فشاں پھٹنے کے فوری بعد کسی جانی یامالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن گناوان نے قریبی مکینوں کو خبردارکیا کہ وہ شہابی گڑھ کے آٹھ مربع کلومیٹر(پانچ میل) کے اندر سفر نہ کریں کیونکہ خطرے کی سطح چارتک بڑھ گئی ہے۔

لُماجنگ کی مقامی انتظامیہ کے سربراہ طریق الحق نے کمپاس ٹی وی کو بتایا:’’بہت سے لوگوں نے پہاڑ سے نیچے جانا شروع کردیا ہے‘‘۔

ماؤنٹ سیمیروپر آخری بار ایک سال قبل آتش فشاں پھٹا تھا۔اس کے نتیجے میں 51 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس آفت نے پوری گلیوں کو کیچڑاور راکھ سے بھردیاتھا،گھروں اور گاڑیوں کو نگل لیا اورقریباً 10ہزارافراد بے گھرہوگئے تھے۔

انڈونیشیا بحرالکاہل کے رنگ آف فائر پرواقع ہے ، جہاں براعظم کی پلیٹوں کاملاپ شدید آتش فشاں اور زلزلے کی سرگرمی کا سبب بنتا ہے۔جنوب مشرقی ایشیا میں واقع جزائرپرمشتمل اس ملک میں قریباً 130 فعال آتش فشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں