اوپیک پلس تیل کی موجودہ پیداوارکی پالیسی کوبرقرار رکھنے پرمتفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اوپیک پلس نے اتوار کوایک اجلاس میں تیل کی پیداوارکے موجودہ اہداف کوبرقراررکھنے پراتفاق کیا ہے۔اوپیک پلس کے دورذرائع نے رائٹرز کو بتایا، کیونکہ تیل کی مارکیٹوں کو چین کی سست معیشت کے اثرات کا اندازہ کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑرہی ہےاور روسی تیل کی رسد پرگروپ سات نے قدغنیں لگا دی ہیں۔

اوپیک پلس کا یہ فیصلہ گروپ سات(جی سیون) کے ممالک کی جانب سے روسی تیل کی قیمتوں کی حد مقررکرنے پر اتفاق کے دوروزبعد سامنے آیا ہے۔

اس گروپ میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس سمیت اس کے غیراوپیک اتحادی شامل ہیں۔اس نےاکتوبر میں ریاست ہائے متحدہ امریکا اوردیگرمغربی ممالک کوناراض کردیا تھا جب اس نے نومبرسے 2023 کے آخر تک ، عالمی طلب کا قریباً 2 فی صد،یومیہ پیداوار میں بیس لاکھ بیرل کم کرنے پراتفاق کیا تھا۔

واشنگٹن نے اس گروپ اور اس کے ایک لیڈرملک سعودی عرب پرالزام عائد کیاہے کہ وہ یوکرین میں ماسکوکی جنگ کے باوجود روس کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اوپیک پلس نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اس نے کمزور معاشی آؤٹ لک کی وجہ سے پیداوارمیں کمی کی ہے۔ چینی معیشت کی سست شرح نمو،عالمی سطح پر معاشی سرگرمیوں میں کمی اوراعلیٰ شرح سود کی وجہ سے اکتوبر کے بعدسے تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے،جس سے مارکیٹ کی قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ گروپ دوبارہ پیداوارمیں کمی کرسکتا ہے۔

گروپ کے اہم وزراء کے فیصلے پر پہنچنے کے بعد اوپیک پلس کے ذرائع نے کہا کہ ’’یہ 2023 کے اختتام تک جاری رہے گا‘‘۔

جمعہ کے روز جی سیون ممالک اورآسٹریلیا نے روسی سمندری تیل کی قیمت میں 60 ڈالرفی بیرل کی حد پراتفاق کیا تھا تاکہ صدر ولادی میرپوتین کو آمدن سے محروم رکھا جا سکے جبکہ روسی تیل کی عالمی منڈیوں میں ترسیل کوجاری رکھا جاسکے۔

دوسری جانب ماسکو نےکہا ہے کہ وہ اس حد سے کم پر اپنا تیل فروخت ہی نہیں کرے گا اور اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اس کا جواب کیسے دیا جائے۔

بہت سے تجزیہ کاروں اوراوپیک کے وزراء کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی حدکاتعیّن ایک الجھاؤ پیدا کرنے والا معاملہ ہےاور شاید غیرمؤثربھی ہے کیونکہ ماسکواپنا زیادہ ترتیل چین اور بھارت جیسے ممالک کو فروخت کررہا ہے اوران ممالک نے تویوکرین میں جنگ کی مذمت کرنے سے بھی انکارکردیا ہے۔

اوپیک نے روس اور اتحادیوں کے بغیر ہفتے کے روزورچوئل اجلاس منعقدکیاتھا لیکن ذرائع کے مطابق تنظیم کے حکام نے روسی تیل کی قیمتوں کی حد پر تبادلہ خیال نہیں کیاتھا۔آج اوپیک پلس کے اجلاس میں بھی روسی تیل کی قیمتوں کی حد پرغورنہیں کیاگیا ہے۔

روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈرنوواک نے اتوار کے روزکہا کہ گروپ سات کی مقررہ قیمت پرتیل مہیا نہیں کیا جائے گا اور اس کے بجائے روس پیداوار میں کمی کرے گا۔ان کا کہنا تھاکہ تیل کی اس اس حد سے تیل پیداکرنے والے دوسرے متاثرہوسکتے ہیں۔

جے پی مورگن نے جمعہ کے روزکہا تھا کہ اوپیک پلس چین کی طلب کے رجحانات اورروس کی خام تیل کی قیمتوں کی حد کے ساتھ صارفین کی تعمیل کے تازہ اعدادوشمار کی بنیاد پرنئے سال میں پیداوارکا ازسرنوجائزہ لےسکتا ہے۔اس میں اس بات کو ملحوظ رکھا جائے گا کہ آیاروس مقررہ قیمت میں عالمی مارکیٹ میں تیل مہیا کرتا ہے یا نہیں اور صارف ممالک کا کیا ردعمل ہوسکتا ہے لیکن روسی نائب وزیراعظم نے واضح کردیا ہے کہ ان کاملک 60 ڈالرفی بیرل میں تیل مہیا نہیں کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں