ایران مظاہرے

ایران میں اڑھائی ماہ سے جاری مظاہروں کے بعد اخلاقی پولیس ختم کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے اپنی اخلاقی پولیس ’گشتِ ارشاد‘کوختم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ نے اتوار کے روزبتایا کہ ملک میں نافذالعمل سخت ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں مہساامینی کی گرفتاری اورپھرپولیس کے زیرحراست موت کے ردعمل میں گذشتہ اڑھائی ماہ سے زیادہ عرصے سے مظاہرے جاری ہیں اور ان کے دباؤکے بعد اخلاقی پولیس کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایران کے اٹارنی جنرل محمدجعفرمنتظری کا کہنا ہے کہ ’’اخلاقیات پولیس کا عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں اوراسے ختم کردیا گیا ہے‘‘۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کا یہ تبصرہ ایک مذہبی کانفرنس میں سامنے آیا جہاں انھوں نے شرکاء میں سے ایک کےاس سوال کا جواب دیا تھا:’’اخلاقیات پولیس کوکیوں ختم کیاجارہا ہے‘‘۔

اخلاقی پولیس کورسمی طور پرگشت ارشاد یا "گائیڈنس پٹرول" کے نام سے جاناجاتا ہے،اس کوسخت گیرسابق صدرمحموداحمدی نژاد کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔اس کا مقصد’’شرم وحیا اور حجاب کی ثقافت کو پھیلانااورضابطہ لباس کی پابندی کراناتھا۔اس کا مقصدلازمی طورپرخواتین کا سرڈھانپنا ہے۔ان یونٹوں نے 2006 میں شہروں میں گشت کا عمل شروع کیا تھا۔

محکمہ گشت ارشادکے خاتمے کا اعلان منتظری کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہاتھا کہ ’’پارلیمان اورعدلیہ دونوں ہی اس معاملے پرکام کررہے ہیں کہ آیا خواتین کو سر ڈھانپنے کی اجازت دینے والے قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں‘‘۔

صدرابراہیم رئیسی نے ہفتے کے روز ٹیلی ویژن پر نشرہونے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی جمہوری اوراسلامی بنیادیں آئینی طورپرمضبوط ہیں لیکن آئین کےنفاذ کے ایسے طریقے موجود ہیں جو لچکدارہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران میں خواتین کے لیے حجاب 1979 کے انقلاب کے چارسال بعد لازمی قراردیا تھا۔اس انقلاب میں امریکی حمایت یافتہ بادشاہت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا اورآیت اللہ روح اللہ خمینی کے زیرقیادت اسلامی جمہوریہ ایران کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

اخلاقیات کے پولیس افسروں نے 15سال قبل کریک ڈاؤن اورخواتین کوگرفتارکرنے سے پہلے ابتدائی طور پرانتباہ جاری کیا تھا۔اس کےدستے عام طورپرسبز وردی میں مردوں اورسیاہ چادروں میں ملبوس خواتین پرمشتمل ہوتے تھے،ایسے لباس جو ان کے سروں اور اوپری جسموں کو ڈھانپتے تھے۔

واضح رہے کہ ایران میں لباس کے ضابطےبھی بتدریج تبدیل ہوئے ہیں۔ خاص طورپرسابق اعتدال پسند صدرحسن روحانی کے دورمیں اس تبدیلی کے بعد خواتین کوڈھیلے ڈھالے لباس،رنگین اسکارف کے ساتھ تنگ جینز میں دیکھنا عام سی بات بن گئی تھی۔

لیکن اس سال جولائی میں ان کے جانشین، انتہائی قدامت پسند صدرابراہیم رئیسی نے’’حجاب کے قانون کو نافذ کرنے کے لیے تمام ریاستی اداروں کو متحرک کرنے‘‘پرزوردیا تھا۔رئیسی نے اس وقت الزام عایدکیا تھا کہ ’’ایران اوراسلام کے دشمنوں نے بدعنوانی پھیلاکرمعاشرے کی ثقافتی اورمذہبی اقدارکو نشانہ بنایا ہے‘‘۔اس کے باوجود،بہت سی خواتین نے ضابطۂ لباس کی مکمل پابندی کےبجائے گریزکےپہلوتلاش کیے۔انھوں نے اپنے سرپوش کواپنےکندھوں پر پھسلنے دیا اوربالخصوص بڑے شہروں اور قصبوں میں تنگ اورچست پتلونیں پہننا شروع کردیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں