سقوط کابل کے بعد سے تاحال صرف چار [04] افغان مہاجرین برطانیہ میں آباد ہوئے

اگست 2021 میں ہزاروں افراد کو نکالا گیا، صرف 4 کو ایک بڑی پناہ گزین سکیم کے ذریعے برطانیہ لایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

برطانیہ کے ہوم آفس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کابل کے سقوط کے بعد جن لوگوں کو بچایا گیا اور محفوظ مقام پر پہنچایا گیا ان میں سے صرف 4 افغان پناہ گزینوں کو برطانوی حکومت کی بنیادی بحالی کی سکیم کے تحت برطانیہ میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔

افغان آباد کاری کے منصوبے (اے سی آر ایس) کا اعلان اگست میں کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد پہلے سال میں ہزار اور پانچ سالوں میں مزید 20 ہزار افغانوں کو آباد کرنا تھا۔

لیکن عملی طور پر برطانیہ میں پہلے سے موجود 6 ہزار 314 مہاجرین کو رہنے کیلئے لامحدود رہائش دی جا چکی تھی تو افغانستان سے نکالے جانے والے صرف 4 افراد کو برطانیہ میں دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔

خیراتی اداروں نے افغان عوام کو اکیلا چھوڑ دینے اور بیرون ملک کے کمزور لوگوں کیلئے برطانیہ میں محفوظ راستے بند کرنے پر متعلقہ وزارتوں کی شدید مذمت کی ہے۔

’’دی انڈیپنڈنٹ‘‘ کی جانب سے شروع کی گئی مہم ’’ریفیوجیز ویلکم‘‘ کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ برطانیہ کو مہاجرین کی محفوظ پناہ گاہ بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ صورتحال پیچیدہ ہے اور ہمیں بہت سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

فروری میں موصول ہونے والی معلومات کے مطابق افغانوں کے انخلا کے آپریشن کے دوران افغان مہاجرین کیلئے 6500 جگہیں فراہم کی گئی تھیں۔ یہ آپریشن برطانوی فوج نے اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ قبضہ کے بعد انجام دیا تھا۔

تاہم اس کے بعد سے صرف چار افراد کو ایک دوسرے راستے سے دوبارہ آباد کیا گیا ہے ، ان افراد کیلئے بھی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین سے حوالہ جات موصول ہوئے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان یا کسی دوسرے ملک میں کمزور افغانوں کے پاس برطانیہ جانے کا کوئی محفوظ راستہ موجود نہیں ہے۔

شیڈو امیگریشن سکریٹری سٹیفن کنوک نے کہا ہے کہ "برطانیہ ان بہادر افغانوں کا مقروض ہے جنہوں نے افغانستان میں برطانوی مفادات کی خدمت کی ہے اور یہ ایک ایسا قرض ہے جس کا احترام لازمی کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ موسم گرما سے کم از کم 160 افغان انتقامی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں اور برطانوی حکومت کا آپریشن ’’پرتپاک استقبال‘‘ نالائق حکومت کی نااہلی اور بے حسی کی وجہ سے اب آپریشن ’’سرد مہری‘‘ میں تبدیل ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزراء کو چاہیے کہ ملک میں پناہ کی درخواستوں کے بیک لاگ کو فوری طور پر حل کریں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتے ہوئے اس وعدے کو پورا کریں جو انہوں نے گزشتہ موسم خزاں میں کمزور افغانوں کو تحفظ تک پہنچانے کے لیے کیا تھا۔

جوائنٹ کونسل فار دی ویلفیئر آف امیگرنٹس کی مہمات کی ڈائریکٹر میری ایٹکنسن نے کہا کہ یہ اعداد و شمار شرمناک ہیں۔ یہ ناکامی کم از کم برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے کمزور افغانوں کو یہاں ممکنہ طور پر جان لیوا سفر کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم افغان عوام کے لیے شرمناک نظر اندازی برتنے پر حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھاگنے نہیں دیں گے۔ ہمیں فوری طور پر افغانوں کے لیے مکمل طور پر موثر آباد کاری کے منصوبے کی ضرورت ہے۔

لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ہوم افیئرز کے ترجمان الیسٹر کارمائیکل نے کہا کہ حکومت طالبان کی دہشت گردی سے فرار ہونے والے افغان مہاجرین کے لیے اپنے وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایک سابق افغان پبلک پراسیکیوٹر ایک سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں موجود ہیں۔ اگرچہ ان کے خاندان کے افراد برطانوی ہیں لیکن وہ پھر بھی محفوظ طریقے سے برطانیہ منتقل نہیں ہو سکے۔

ایک افغان صوبے کے سابق پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ ہمیشہ ڈرتے ہیں کہ پاکستان میں طالبان کے نیٹ ورک انہیں تلاش کر لیں گے۔ انہوں نے کہا میں مسلسل خوف اور پریشانی محسوس کرتا ہوں کہ شاید میں قید کر لیا جاؤں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوگا۔ جمعرات کو ان کی وکیل دینا پٹیل نے بتایا کہ ان کا کیس اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کو بھیجا گیا ہے لیکن وہ ابھی تک پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

برطانوی حکومت نے بتایا ہے کہ جنوری میں شروع کی گئی افغان آباد کاری کی سکیم ان لوگوں کی مدد کے لیے بنائی گئی تھی جنہوں نے افغانستان میں برطانوی کوششوں میں تعاون کیا اور جمہوریت، آزادی اظہار اور قانون کی حکمرانی کی اقدار کو برقرار رکھا ۔

پہلی راہداری یا راستہ کابل کے سقوط کے بعد برطانوی افواج کے انخلا کے بعد برطانیہ میں آنے والوں کو ویزا جاری کرنے پر مبنی ہے ۔ دوسرا راستہ ان افغان خاندانوں کے لیے کھولا گیا جو افغانستان سے ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان یا ایران کی طرف بھاگے تھے۔ ان افراد کی شناخت اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کی تھی کہ انہیں دوبارہ آبادکاری کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر نیلم رائنا، ایک ماہر تعلیم جنہوں نے افغانستان سے بھاگنے پر مجبور مہاجرین کی حمایت کی ہے، نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کو دوبارہ آباد کرنے کا منصوبہ صرف اپنی موجودگی کے اظہار کیلئے بنایا گیا تھا۔ یہ ایک مبہم اور غیر منصفانہ نظام ہے جس میں منافقت اور تاخیر شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہیں بتایا گیا کہ آبادکاری کے منصوبے تک کیسے پہنچا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں یو این ایچ سی آر افغانستان سے آنے والے لوگوں کی بڑی تعداد سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی ہوم آفس کے ترجمان نے کہا ہے "برطانیہ نے کسی بھی ملک کے مقابل افغانستان کی مدد کرنے کا سب سے بڑا وعدہ کیا ہے اور آج تک ہم نے 22 ہزار 800 سے زیادہ کمزور افغانوں کی حفاظت تک پہنچنے میں مدد کی ہے۔ تاہم صورتحال پیچیدہ ہے اور بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں