سوڈان کی سول جماعتوں اورفوج کے درمیان انتقالِ اقتدارکافریم ورک سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان (السودان)کی فوجی قیادت اور سیاسی جماعتوں نے پیر کے روز ایک فریم ورک سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔اس کے نتیجے میں دوسال کے لیے سول حکومت قائم کی جائے گی۔وہ انتخابات کے انعقاد کاانتظام کرے گی۔

اس سمجھوتے پر عمل درآمد سے سول انتقال اقتدار کی راہ ہموار ہوگی اوراکتوبر2021 میں فوج کی سویلین کی بالادستی والی حکومت کے خلاف بغاوت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تعطل کوختم کرنے میں مدد ملے گی۔

ابتدائی سمجھوتے کے مطابق فوج کوسکیورٹی کے کردار تک محدود کردیا جائے گا اوروزیراعظم کی سربراہی دفاعی کونسل قائم کی جائے گی لیکن عبوری انصاف اور سلامتی کے شعبے میں اصلاحات سمیت حساس معاملات کومزیدمذاکرات تک مؤخرکردیا گیا ہے۔

اس معاہدے کوپہلے ہی سابق صدرعمرالبشیر کے وفاداردھڑوں اورفوج مخالف احتجاجی گروپوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔واضح رہے کہ سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیر کو2019 میں فوج نے اقتدار سے بے دخل کردیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں سیاسی بحران جاری ہے۔

ایک عینی شاہدنے خبررساں ادارے رائیٹرزکو بتایا کہ دارالحکومت خرطوم کے دوعلاقوں میں صدارتی محل میں اس معاہدے پردست خط کی تقریب سے قبل مظاہرے شروع ہو گئے۔

فوج نے گذشتہ سال کی بغاوت کے بعد سے کسی نئے وزیراعظم کا تقررنہیں کیا تھا۔اس اقدام نے فوج اور فورسزبرائے آزادی اورتبدیلی (ایف ایف سی) اتحاد کے مابین اقتدار کی منتقلی کے انتظام کو روک دیا تھا۔

سوڈانی فوج کے خلاف گذشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بڑے پیمانے پرمظاہرے جاری ہیں جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے سوڈان کی اربوں ڈالر کی امداد معطل کردی ہے جس سے ملک میں معاشی بحران اور بڑھ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں