یواے ای اور یوکرین کادوطرفہ جامع تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے سے اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات اور یوکرین نے پیر کے روز دوطرفہ تجارتی معاہدے پر بات چیت شروع کرنے سے اتفاق کیا ہے۔توقع ہے کہ یہ بات چیت اگلے سال کے وسط تک مکمل ہوگی۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے خارجہ تجارت ثانی الزیودی اور یوکرین کی وزیراقتصادیات یولیا سفیریدینکو نے جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سی ای پی اے،سیپا) کوحتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات سے متعلق ایک مشترکہ بیان پر دست خط کیے ہیں۔

فروری2021 میں یوکرین کے صدرولودی میر زیلنسکی کے خلیجی ریاست کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان تین ارب ڈالر سے زیادہ کے تجارتی اور سرمایہ کاری سمجھوتوں پردست خط کیے گئے تھے۔اس کے بعد یہ کسی یورپی ملک کے ساتھ متحدہ عرب امارات کا اس طرح کا پہلا معاہدہ ہوگا۔

الزیودی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہمارے لیے، یوکرین ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ پوری جغرافیائی سیاسی صورت حال سے پہلے ترقی اور سرمایہ کاری کی صلاحیت زیادہ تھی۔ہمیں لگتا ہے کہ چیزوں کو آگے بڑھانے کا وقت آگیا ہے‘‘۔

اماراتی وزارت برائے اقتصادی اموراور بیرونی تجارت کے مطابق 2021 میں یواے ای اور یوکرین کے درمیان غیرتیل کی تجارت کا حجم 90کروڑ ڈالر سے زیادہ رہاتھا۔یہ اس سے گذشتہ سال کے مقابلے میں قریباً 29 فی صد اور 2019 کے مقابلے میں 12 فی صد زیادہ تھا۔

بات چیت ممکنہ طورپرخدمات کے شعبے میں تجارت کوبڑھانے کے مواقع اورغذائی تحفظ پرمرکوز ہوگی۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات ایک تجارتی مرکز کے طور پرآگے بڑھ رہا ہے جبکہ یوکرین مشرق اوسط کے لیے اناج کا ایک بڑابرآمد کنندہ ہے۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ طے پانے سے یوکرین کو اپنی زرعی اور صنعتی پیداوارکی درآمد کے لیے ایشیا، افریقا اور مشرقِ اوسط میں نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔

الزیودی نے رائٹرزکو بتایا کہ’’اس معاہدے سے نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ یوکرین کے لیے بھی اضافی قدرآئےگی‘‘۔

متحدہ عرب امارات نے رواں سال بھارت، اسرائیل اور انڈونیشیا کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔ان کا مقصد سعودی عرب سے بڑھتی ہوئی مسابقت کے وقت عالمی تجارت اورلاجسٹکس مرکز کے طور پراپنی پوزیشن بہتربنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں