ایران مظاہرے

ایران میں بسیج کے رکن کی ہلاکت کے جُرم میں پانچ مظاہرین کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں عدلیہ نے حکومت نواز بسیج ملیشیا کے ایک رکن کے قتل میں مبیّنہ کردار ادا کرنے کے الزام میں پانچ مظاہرین کو قصوروار قراردے کرسزائے موت سنائی ہے۔اس طرح اب مہساامینی کی ہلاکت کے بعد ایران میں جاری بدامنی کے الزام میں سزائے موت پانے والے افراد کی مجموعی تعداد 11 ہوگئی ہے۔

نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عدلیہ کے ترجمان مسعود ستایشی نے کہا کہ روح اللہ عجمیان کی موت میں مبیّنہ کردارکے الزام میں تین نابالغوں سمیت 11 دیگر افراد کو 'طویل مدت کی قید' کی سزا سنائی گئی ہے۔

ستایشی نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ حتمی نہیں اوراس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق عجمیان کوگذشتہ ماہ کرج شہر میں 'فسادیوں' کے ایک گروپ نے قتل کردیا تھا۔

بسیج ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کا ایک نیم فوجی دستہ ہے۔ ایرانی حکومت عام طور پر بسیج کے اہل کاروں کواحتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کودبانے کے لیے تعینات کرتی ہے۔

ستمبرکے وسط میں 22 سالہ ایرانی کردخاتون امینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران میں ایران نے بسیج کے متعدد ارکان کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

مظاہرین اب حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں اور ان کی احتجاجی تحریک 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سے شیعہ مذہبی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

اوسلومیں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) کے مطابق مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے 60 بچوں اور 29 خواتین سمیت 448 افراد کوہلاک کردیا ہے لیکن ایران کے حکام نے اب تک صرف تین سو ہلاکتوں کو تسلیم کیا ہے اور ان میں سکیورٹی فورسز کے ہلاک شدگان بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں