یوکرین کی روس سے ’’اخلاقی طورپرنامناسب‘‘ تیل خریدکرنے پربھارت پرتنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے وزیرخارجہ نے ایک نشری انٹرویو میں ماسکو کے حملے کے بعد بھارت کے روس سے تیل خریدکرنے کی مذمت کی ہے اور اس اقدام کو’’اخلاقی طور پر نامناسب‘‘ قرار دیا ہے۔

ایک روز قبل بھارت کے اعلیٰ سفارت کار نے روس سے رعایتی خام تیل کی خریداری کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ براعظم یورپ کی جانب سے روسی پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے باوجود اس کے مقابلے میں ان کے ملک کی روس سے درآمدات میں کمی آئی ہے۔

لیکن یوکرین کے دمیتروکلیبا نے بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ روس سے تیل خریدکرنے کا جواز پیش کرنا’مکمل طورپرغلط‘ ہے جبکہ بھارت اس کی یہ دلیل پیش کررہا ہے کہ یورپی بھی ایسا کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ’’اخلاقی طور پر نامناسب‘‘ تھا کیونکہ آپ سستاتیل یورپیوں کی وجہ سے نہیں خرید رہے ہیں بلکہ ہماری وجہ سے، ہمارے مصائب کی وجہ سے، ہمارے المیے کی وجہ سے ایسا کررہے ہیں اورروس سے یوکرین کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کی وجہ سے تیل خرید کررہے ہیں۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارت نے فروری میں حملے کے بعد سے سستے روسی تیل کی خریداری میں چھت گنا اضافہ کیا ہے، اس حد تک کہ ماسکو اب اس کا سب سے بڑا خام تیل مہیّا کنندہ ملک ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں اجناس کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے سے لاکھوں غریب ہندوستانیوں کو سخت نقصان پہنچا ہے اوراس کے پاس ممکنہ طور پرروس سے سستا تیل خریدنے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔

بھارتی وزیرخارجہ ایس جئے شنکر نے پیرکے روز کہا تھا کہ ان کے ملک کے اخراجات یورپی ممالک کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں جو اب مشرقِ اوسط سے زیادہ تیل اورگیس خرید رہے ہیں۔

جئے شنکر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مشرقِ اوسط روایتی طورپربھارت جیسی معیشت کے لیے تیل کا ایک برآمد کنندہ تھا۔اب یورپ کے مشرقِ اوسط کی طرف رخ کرنے سے بھی قیمتوں پردباؤ پڑا ہے۔

بھارت اور روس سرد جنگ کے دیرینہ اتحادی ہیں۔ ماسکو نئی دہلی کواسلحہ کا سب سے بڑا اسلحہ برآمد کنندہ ہے اور بھارت نے یوکرین پرحملے کی مذمت میں اقوام متحدہ کی قراردادوں میں حصہ بھی نہیں لیا ہے۔

تاہم وزیراعظم نریندرمودی نے ستمبرمیں ایک علاقائی فورم پر ولادی میر پوتین سے کہا تھا کہ ’’جنگ کا دورلدچکا ہے‘‘،اس بیان کوروسی صدر کی سرزنش کے طورپردیکھا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں