افغان طالبان کابرسراقتدارآنے کے بعد پہلی مرتبہ سرِعام سزائے موت پرعمل درآمدکا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

افغانستان میں طالبان نے قتل کے جرم میں سزایافتہ ایک شخص کو بدھ کے روزسرِعام موت سے ہم کنار کیا ہے۔طالبان نے دوبارہ برسراقتدارآنے کے بعد پہلی مرتبہ سزائے موت پراس طرح عمل درآمد کی تصدیق کی ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں اسلامی قانونِ قصاص کی تشریح میں’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کے انصاف کا حوالہ دیا ہے اورکہا’’سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ہم وطنوں کے عوامی اجتماع میں قصاص کے اس حکم پرعمل درآمد کرے‘‘۔

گذشتہ ماہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلامی قانون کے ان پہلوؤں پرمکمل طورپرعمل درآمد کریں جن میں سرعام پھانسیاں دینا، سنگساری،کوڑے مارنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنا شامل ہیں۔

اس کے بعد سے اب تک طالبان نےعوامی اجتماعات میں کئی مجرموں کو کوڑے مارے ہیں، لیکن صوبہ فراہ کے اسی نام کے دارالحکومت شہر میں بدھ کو قصاص میں قتل کو طالبان کی جانب سے پہلی بار تسلیم کیا گیا ہے۔

بیان میں موت سے ہم کنار ہونے والے شخص کا نام تاج میرولدغلام سرور بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ صوبہ ہرات کے ضلع انجیل کا مکین تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں