عدالت نے ٹرمپ کے کاروباری ادارے 'ٹرمپ آرگنائزیشن' کو ٹیکس چور قرار دیے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری ادارے امریکی ٹیکس اتھارٹیز کو دھوکہ دے کر ٹیکس بچاتی رہی۔ منگل کے روز امریکی عدالت نے اس سلسلے میں ٹرمپ کے کاروباری ادارے کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کے وکیل ایلن فیوٹرفاس نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔

عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر نے کہا کمپنی اور کمپنی کے حکام نے اپنے ٹیکسوں کے حوالے دھوکہ دہی کی، ٹرمپ آرگنائزیشن نے ایگزیکٹوز کو دھوکہ دہی کے لیے کھلی چھٹی دیے رکھی کہ وہ اپنے اپارٹمنٹس کا کرایہ کم ظاہر کریں اور اسے اپنی آمدنی میں ظاہر نہ کریں۔ ایگزیکٹوز کو بونس بھی جاتے رہے کہ جیسے ایگزیکٹوز آزاد ٹھیکیدار نہ کے ملازمین۔

حتیٰ کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دستخطوں کے ساتھ اپنے فلوریڈا والے مار اے لاگو کلب کے بونس کے چیک جاری کیے۔

اسی طرح ٹرمپ انٹرنیشنل گولف کلب نے فلوریڈا میں کیا گیا۔ یوں ٹرمپ کے دوسرے کاروباری اداروں کو بھی فائدہ پہنچایا گیا۔ واضح رہے اس کیس میں ٹرمپ پر الزام نہیں عائد کیا گیا جیسا کہ ٹرمپ نے مقدمے کو سیاسی بنیادوں پر قرار دیا تھا۔

واضح رہے ٹرمپ آرگنائزیشن نے اپنے ایگزیکٹوز اور ان کی بیگمات کے لیے لیز پر انتہائی مہنگی گاڑیاں بھی حاصل کیں۔ اسی طرح کمپنی نے بیڈز، ٹی ویز اور قالینوں کی اور کے لیے بھی ادائیگیاں کیں۔

کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر ایلن ویسل برگ کو مین ہٹن میں یوٹیلٹی بلز، کیبل اور پارکنگ چارجز تک دیے گئے۔ ٹرمپ نے اپنے چیف فنانشل آفیسر کے پوتوں اور پوتیوں کی فیسیں بھی ادا کیں۔

اس کے علاوہ بھی کئی اسی طرح کی ہیر پھیریاں موجود ہیں۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کی طرف سے ایسی ٹیکس سٹیٹ منٹ جمع کرائی گئی جس میں ایگزیکٹو کی 'مین ہٹن' میں رہائش کے حوالے سے شہری ٹیکس بھی ادا نہیں کیے گے تھے۔ ملازمین کی قابل ٹیکس آمدنی کا بھی ذکر نہیں تھا۔ لیکن تنخواہوں اور بونسز سے کچھ اخراجات کی کٹوتی ضرور ظاہر کی گئی تھی۔

چیف فنانشل آفیسر ویسل برگ کے ذاتی اخراجات کا تخمینہ 100000 ڈالر بتایا گیا تھا مگر جو رقم انہیں وصول ہوئی وہ تنخواہ کی صورت میں دو لاکھ ڈالر تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں