سعودی عرب اوریواے ای کی ثالثی کے نتیجے میں امریکااورروس کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ ان کی مشترکہ ثالثی کی کوششوں سے جمعرات کو امریکا اور روس کے درمیان قیدیوں کے کامیاب تبادلے میں مدد ملی ہے۔

سعودی عرب اور یواے ای کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی کامیابی ان کی امریکا اورروسی فیڈریشن کے ساتھ باہمی اورٹھوس دوستی کی عکاسی کرتی ہے۔بیان میں فریقین کے درمیان بات چیت کے فروغ میں دونوں برادرممالک کی قیادت کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

بیان کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید نے ثالثی کی کوششوں کی قیادت کی ہے۔حکام کے مطابق امریکااور روس نے جمعرات کے روز قیدیوں کے تبادلے کو حتمی شکل دی ہے جس کے تحت امریکی باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرینرکو بدنام زمانہ روسی اسلحہ ڈیلر وکٹربوٹ کے تبادلے میں رہا کیا گیا ہے۔

قیدیوں کایہ تبادلہ ابوظبی میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے "ماہرین" کی موجودگی میں ہوا۔دونوں ممالک کی قیادت نے ثالثی کی کوششوں میں تعاون اور ردعمل پرامریکا اور روس کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے جب سعودی عرب نے اس سال قیدیوں کی رہائی میں ثالثی کی ہے۔اس سے پہلے سعودی عرب کی کوششوں کے نتیجے میں روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جنگی قیدیوں کی رہائی کی کوشش کے حصے کے طور پرکریملن اور یوکرین کے ساتھ براہ راست رابطے میں تھے۔اس ثالثی کے نتیجے میں پانچ برطانوی شہری ، ایک مراکشی ، ایک سویڈش ، ایک کروٹ اور دو امریکیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں