روس کوڈرون فراہمی اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،یورپی یونین کی ایران پرمزید پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین نے ایران کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور یوکرین کے خلاف روس کو ڈرون طیارے فراہم کرنے پر مزید پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ بات فرانس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے جمعرات کو بتائی ہے۔

اینا کلئیر لیجنڈر نے وزرائے خارجہ اس بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ تاکہ ایران اور اس کی شخصیات کو ان نئی پابندیوں کی زد میں لیا جا سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے روس کو تھوڑی تعداد میں ڈرون طیارے یوکرین پر اس کے حملے سے پہلے بھجوائے تھے۔

روس نے بھی اس امر کی تردید کی ہے کہ اس کی فوج نے ایرانی ساختہ ڈرون یوکرین کے خلاف استعمال کیے ہیں۔ لیکن یورپی ممالک اسے تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

یورپی یونین جن ایرانی مظاہرین کے ساتھ ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ناروا سلوک پر ناراض ہے وہ سولہ ستمبر سے ایران کے تقریبا سبھی شہروں میں سڑکوں پر ہیں۔ مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت پر شروع ہونے والے یہ احتجاجی مظاہرے مسلسل شدت پکڑ رہے ہیں۔

ایرانی سیکیورٹی فورسز نے احتجاج روکنے کے لیے اب تک 475 مظاہرین کی جان لے لی ہے۔ انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو کریج دینے والی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اب تک 18000 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران روس کو مسلسل ڈرون طیارے دے رہا ہے اور آئندہ وہ روس کو بلیسٹک میزائل بھی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مغربی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف نئی پابندیاں امکانی طور پر پیر کو لگائی جائیں گی۔ ان پابندیوں کی زد میں 21 ایرانی شخصیات اور ایک ادارہ شامل ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں