مصر میں دو بچوں کی منگنی پر حکومت کی فوری کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حکومت کے انتباہات کے باوجود اور اس جرم میں ملوث ہونے والوں کیلئے قید اورجرمانے کی سزا کے قانون ہونے کے باجود مصر میں کم عمری کی شادی کا رجحان دوبارہ رواج پانے لگا ہے۔

قاہرہ کے شمال میں گورنریٹ شرقیہ میں واقع صقر سنز سنٹر سے تعلق رکھنے والے ایک گاؤں میں ایک خاندان کے بچے اوربچی کی آپس میں منگنی کی تقریب منعقد کی گئی، بچی کی عمر 10 سال سے بھی کم ہے اور وہ چوتھی کلاس کی طالبہ ہے جبکہ بچہ 12 سال کا ہے اور چھٹی کلاس میں زیر تعلیم ہے۔

دادا کی خوشی کیلئے قانون کی خلاف ورزی

زیاد نامی دولہے کی والدہ نے بتایا کہ یہ منگنی بچے کے دادا کی خواہش پر منعقد کی گئی تھی۔ خاندان کے بڑے بزرگ بچے کا دادا اور بچی کا نانا تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ خاندان کو جوڑ کر رکھا جائے اور آپس کی ہم آہنگی سے رشتوں کو بڑھایا جائے۔

یہ معاملہ خاندان میں ایک روایت کے مطابق ہوتا ہے جس کے دوران بچوں کی بچپن سے ہی منگنی کر دی جاتی ہے تاہم باضابطہ شادی قانونی عمر تک پہنچنے کے بعد ہی کی جاتی ہے۔

دولہے کی والدہ نے مزید کہا کہ خاندان کے ایک بیٹے کی شادی تھی۔ سب خوشیاں منا رہے تھے۔ اسی دوران ایک دن پہلے منگل کو ایک تقریب کے دوران ان دو بچوں کے لیے منگنی کی انگوٹھیاں خریدی گئیں اور ان کے لیے بھی فیملی پارٹی کا انعقاد کر دیا گیا ۔

شادی وقت پر کرانے کا عہد لے لیا گیا

اس منگنی کی اطلاعات پر قومی کونسل برائے بچپن اور زچگی نے فوری مداخلت کی اور دونوں بچوں کے والدین سے "منگنی" روکنے اور قانونی عمر کی تکمیل تک شادی کو مکمل نہ کرنے کا عہد حاصل کیا۔

کونسل کے سیکرٹری جنرل انجینئر نیوین عثمان نے وضاحت کی کہ چائلڈ ہیلپ لائن 16000 نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس واقعے کی نگرانی کی اور فوری طور پر گورنریٹ میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کو واقعہ کی صداقت کی تحقیقات کا کام سونپا گیا۔

کونسل میں بچوں کی مدد کے عمومی شعبے کے ڈائریکٹر محمد ناظمی نے بتایا کہ الشرقیہ گورنری میں چائلڈ ہڈ پروٹیکشن کمیٹی فوری طور پر دونوں بچوں کے گھر پہنچی اور دونوں بچوں کے خاندانوں کو جلد شادی کے خطرات کے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔

دونوں خاندانوں نے اس واقعہ کی تمام تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا سے ڈیلیٹ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

تازہ ترین سرکاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصر میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 39 ملین تک پہنچ گئی ہے، جن میں 117,000 شادی شدہ اور طلاق یافتہ بچے شامل ہیں۔

کم عمری کی شادی پر پابندی

اس رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے مصری وزراء کونسل نے بچوں کی شادی پر پابندی کے بل کی منظوری دی۔

مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ کسی ایسے شخص کے لیے نکاح نامے کی دستاویز پر کرنا جائز نہیں ہے جس کی عمر اٹھارہ سال تک نہ پہنچی ہو اور اس کے لیے معاہدہ کی تصدیق کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

قانون میں کہا گیا ہے کہ دو افراد کی شادی میں کسی ایک کی عمر بھی شادی کے وقت اٹھارہ سال سے کم ہو گی تو اس شادی کرانے والے ایک سال تک قید کی سزا دی جائے گی اور 50 ہزار سے لیکر 2 لاکھ پاؤنڈ تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں