چین اندرونی حالات کے باعث امریکہ سے تعلقات میں وقتی بہتری چاہتا ہے: کرٹ کیمپ بیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چین امریکہ کے ساتھ مختصر مدت کے لیے تعلقات کا استحکام چاہتا ہے۔ چین کی اس خواہش کے پیچھے اس اندرونی حالات جن میں وسیع پیمانے پر پھیل جانے والا چین کے اندر احتجاج اور چین کو درپیش معاشی چیلنج بن رہے ہیں۔ نیز ایشیا میں اپنی اثر اندازی کی حکمت عملی کے کے پسپا ہونا وجہ ہے۔

یہ بات میں انڈو پیسفک کے لیے رابطہ کار کرٹ کیمپبیل نے جمعرات کے روز کہی ہے۔ واضح رہے چین میں کووڈ 19 کے بعد سے احتیاطی تدابیر کے باعث کیے جانے والے اقدامات سے عوامی سطح پر کافی اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس اضطراب میں شدت کا اظہار پچھلے ماہ سے چین میں سامنے آنے والے احتجاجی مظاہرے بن رہے ہیں۔

چین کے صدر شی کے 2012 سے بر سر اقتدار آنے کے بعد یہ عوامی احتجاج کا یہ بہت شدید اظہار ہے۔ چین میں کیے گئے اقدامات اور قواعد نے معیشت کا پہیہ آہستہ کر دیا ہے۔ لیکن اب حال ہی میں ان قواعد میں کی گئی نرمی کے نتیجے میں اس تشویش کو نئے سرے سے بڑھا دیا ہے کہ کووڈ دوبارہ انتہائی شدت اختیار کر سکتا ہے۔

کیمپ بیل نے واشنگٹن میں ایک سیکیورٹی فورم سے اپنے خطاب میں کہا ' اس اندرونی صورت حال کے علاوہ یہ ہوا ہے کہ چین نے اپنے آپ کو اپنے کئی پڑوسیوں میں الجھا کے رکھ دیا ہے۔'

چین کے بھارت کے ساتھ علاقائی تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'اس نے ایک ہی وقت میں کئی ملکوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں وہ امریکہ کے ساتھ تھوڑے وقت کے لیے اپنے معاہدات چاہتا ہے تاکہ سہولت میں آسکے۔ میری رائے کے مطابق چین سمجھنے لگا ہے کہ اسے کئی محاذوں سے ' بیک فائر ' ہوا ہے۔ '

انہوں نے کہا ' مجھے کئی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ چین کی اس وقت کی ضرورت امریکہ کے ساتھ کھلی دشمنی کا ماحول ہے۔ کیونکہ چین چاہتا ہے کہ وہ منظر کے بارے میں پوری طرح پیش گوئی کا ماحول دیکھ سکے اور اسے استحکام ملا رہے۔ '

سلامتی امور سے متعلق اس ماہر کا کہنا تھا ' اس تناظر میں آنے والے دنوں میں دنیا چین اور امریکہ کے درمیان ایک نسبتا زیادہ مضبوط اور متھرک سفارت کاری دیکھ سکے گی۔ ' میرا خیال ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم چین سے علاقے کے بارے میں کچھ یقین دہانیاں چاہتے ہیں۔ تاہم کیمپ بیل نے اس بارے میں کسی تفصیل میں جانے سے گریز کیا۔ '

کیمپ بیل نے روس کی یوکرین میں جنگ کے بارے میں کہا ' مقابلتا زیادہ پس منظر میں چلی گئی ہے کیونکہ انڈو پیسفک کے علاقے میں تائیوان کے حوالے سے استحکام کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا ' اگر یہ چیلنج رہا تو اس کے مضمرات بڑے خوفناک ہوں گے، یہ مضمرات تذویراتی اور تجارتی دونوں ہوں گے، جن میں کوئی بھی دلچسپی نہیں رکھے گا۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر فریق کو اس معاملے کی حساسیت کا خوب اندازہ ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں