تہران کے خلاف مزید پابندیاں لگائیں گے: آسٹریلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ حکومت ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے جواب میں ایران میں افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرے گی۔

وونگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آسٹریلیا 13 افراد اور دو اداروں پر پابندیاں عائد کرے گا جن میں ایرانی اخلاقی پولیس، باسیج اور 6 ایرانی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ ماہ مہسا امینی کی حراست کے دوران موت کے بعد پھوٹنے والے مظاہروں کو دبانے میں حصہ لیا۔

وونگ نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا روس کو یوکرین میں استعمال کے لیے ڈرون فراہم کرنے پر 3 ایرانیوں اور ایک ایرانی کمپنی پر اضافی مالی پابندیاں عائد کرے گا۔

ایرانی نوجوان کو پھانسی

واضح رہے ایران نے جمعرات کو ستمبر میں مظاہروں کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ مظاہروں سے متعلق سزائے موت پر عمل کیا اور ایک نوجوان کو پھانسی دے دی۔ اس پھانسی کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔

محسن شکاری
محسن شکاری

عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹ "میزان آن لائن" نے کہا ہے کہ محسن شکاری ایک فسادی تھا جس نے 25 ستمبر کو تہران میں ستار خان سٹریٹ کو عبور کیا اور ایک بسیج کے سیکیورٹی اہلکار کو چاقو سے زخمی کر دیا۔

458 ہلاکتیں

بتایا جاتا ہے کہ اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے 3 دن بعد 16 ستمبر 2022 کو مہسا امینی کے قتل کے بعد سے پورے ایران میں احتجاجی تحریک شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔

تہران میں احتجاج کے مناظر۔
تہران میں احتجاج کے مناظر۔

اس دوران سیکورٹی فورسز نے تشدد اور جبر کا سہارا لیا جس سے 63 بچوں سمیت کم از کم 458 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔

اخلاقی پولیس کا خاتمہ

گزشتہ اتوار کو ایرانی پبلک پراسیکیوٹر محمد جعفر منتظری نے "اخلاقی پولیس" کو تحلیل یا ختم کر دینے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں