روس ایران کو جدید دفاعی نظام فراہم کرے گا: امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں شامل امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ روس اب ایران کو "غیر معمولی نوعیت" کی فوجی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا ہے، اس کے بدلے میں تہران ماسکو کو یوکرین میں جنگ کے لیے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شراکت داری کو مضبوط بنانے کے ایک حصے کے طور پر ماسکو ایران کو ہیلی کاپٹر اور فضائی دفاعی نظام سمیت جدید فوجی ساز وسامان اور اجزاء فراہم کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی پائلٹوں نے موسم بہار میں روس میں روسی سخوئی ایس یو 35 لڑاکا طیارہ اڑانے کی تربیت حاصل کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اگلے سال کے اندر یہ طیارے حاصل کرنا شروع کر سکتا ہے۔"

اسلحہ کی ترسیل جاری

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ اس کا خیال ہے کہ ایران یوکرین میں استعمال کے لیے روس کو ڈرون فراہم کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات "مکمل دفاعی شراکت داری" میں بدل رہے ہیں، جس میں ہتھیار اور فوجی مہارت دونوں سمتوں جاری ہے۔

روس اور ایران کے پرچم
روس اور ایران کے پرچم

حکام کے مطابق روس ایران کے ساتھ ہتھیاروں کی تیاری میں تعاون کا منتظر ہے، جس میں روس میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے لیے مشترکہ پیداوار لائن قائم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ "یہ شراکت داری نہ صرف یوکرین بلکہ خطے میں ایران کے پڑوسیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔"

روس میں قائم تین ایرانی ادارے

حکام نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ جمعہ کو روس میں قائم تین اداروں کوبلیک لسٹ کے لیے نامزد کرے گی جو یوکرین میں استعمال کے لیے ایرانی ڈرون کی منتقلی میں ملوث ہیں۔ اس طرح کے اداروں میں ڈرون حاصل کرنے والی روسی فضائیہ اور روسی 924 واں ریاستی مرکز برائے بغیر پائلٹ ایوی ایشن شامل ہیں، جہاں 924 ویں مرکز کے اہلکاروں نے ایرانی ہتھیاروں کو چلانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے ایران کا سفر کیا ہے۔

حکام نے وضاحت کی کہ امریکا ایران اور روس کے درمیان فوجی تعاون پر بات چیت کے لیے ہم خیال ممالک کے ایک گروپ کو اکٹھا کرنے کے آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے۔ وہ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ روس اور ایران سازوسامان، ہتھیاروں کی منتقلی نہ کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں