روس نے پارلیمنٹیرینز سمیت 200 کینیڈین شہریوں پر پابندیاں عائد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعہ کے روز روسی وزارت خارجہ نے 200 کینیڈین شہریوں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا۔ ان افراد میں اعلیٰ عہدے دار اور ریٹائرڈ اور موجودہ پارلیمنٹیرینز شامل ہیں۔ ان افراد پر روسی فیڈریشن میں داخل ہونے پر پابندی ہوگی۔

روسی مقامی میڈیا کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروف نے اپنے ٹیلی گرام کاؤنٹ پر کہا کہ اوٹاوا کی طرف سے روسی اور فوجی حکام، ججوں، قانون نافذ کرنے والے افسران اور عوامی شخصیات کے خلاف لگائی گئی ذاتی پابندیوں کے جواب میں باہمی روابط کی بنیاد پر 200 کینیڈین شہریوں کو داخلے سے روک دیا گیا۔

زخاروف نے مزید کہا کہ ان میں اعلیٰ عہدے دار، ریٹائرڈ اور موجودہ پارلیمنٹیرینز، قانون نافذ کرنے والے حکام اور ماہر حلقوں کے نمائندے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بندیرا کے حامی کئی ڈھانچوں اور تنظیموں کے کارکنان بھی شامل ہیں جو براہ راست روسیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔

وزارتیں اور محکمے

روس کی جانب سے یہ اعلان کینیڈا کے حکام کی جانب سے جمعہ کو روسی وزارتوں، محکموں اور کمیٹیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

کینیڈین حکام کے مطابق پابندیوں میں روسی وزارت داخلہ، سینٹرل الیکشن کمیشن، فیڈرل جیل سروس، روسی فیڈرل انویسٹی گیٹو کمیٹی اور وزارت انصاف کے علاوہ قومیت کے امور کی وفاقی ایجنسی شامل ہیں۔

پابندیوں سے 33 روسی افراد بھی متاثر ہوئے

یاد رہے کہ 24 فروری کو یوکرین کی سرزمین پر روسی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے کینیڈا بھی ان مغربی ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے ماسکو پر ہزاروں سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں