عالمی کپ:مراکش کی ٹیم پُرتگال کوشکست دے کر سیمی فائنل میں!

مراکشی ٹیم نے افریقا،عرب اور اسلامی دنیا کے فٹ بال شائقین کی خوشیاں دوبالا کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مراکش کی فٹ بال ٹیم ہفتے کی شب پرتگال کو ورلڈکپ کوارٹر فائنل میں ایک گول سے شکست دے کر سیمی فائنل میں پہنچ گئی ہے۔مراکش قطر میں جاری عالمی کپ ٹورنامنٹ کا سیمی فائنل کھیلنے والا پہلا عرب ملک ہوگا۔

مراکشی ٹیم کرسٹیانورونالڈو کی پرتگیزی ٹیم کوشکست دے کر ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی براعظم افریقا کی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔فیفا کی درجہ بندی میں مراکش 22 ویں نمبر پر ہے۔اس نے پہلے ہی اس ٹورنا منٹ میں بیلجیئم اور اسپین کواپ سیٹ شکست دی ہے۔اس کی وجہ سے اس کے مداحوں میں جوش وخروش دیدنی تھا۔بالخصوص ناک آؤٹ مرحلے میں اسپین کے خلاف میچ میں اس کی شاندار فتح نے عرب بھرکے شائقین میں جوش وولولہ بڑھا دیا تھا۔

مراکش کے کوچ ولید الرکراکی اپنی ٹیم کے ساتھ پرتگال کے خلاف فتح کا جشن منا رہے ہیں۔
مراکش کے کوچ ولید الرکراکی اپنی ٹیم کے ساتھ پرتگال کے خلاف فتح کا جشن منا رہے ہیں۔

مراکش کی شاہی فضائی کمپنی نے کوارٹرفائنل میچ کے لیے سات اضافی پروازیں چلائی ہیں۔ان کے ذریعے قطرمیں مراکش سے سیکڑوں شائقین میچ دیکھنے کے لیے دوحہ پہنچے ہیں۔وہ کھیل سے چند گھنٹے قبل اسٹیڈیم تک رسائی کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔ان سے پہلے بھی مراکش کے شائقین کا ایک بڑا دستہ اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے قطر میں موجود ہے۔

قطر پہلاعرب ملک ہے جہاں فٹ بال عالمی کپ منعقد ہورہا ہے۔مراکش کی ٹیم کوعراق سے الجزائرتک اور پاکستان سے انڈونیشیا تک تمام عرب واسلامی شائقین کی حمایت حاصل ہے۔انھوں نے ناک آؤٹ مرحلے میں اس کی پیش رفت پر بے پایاں خوشی کا اظہار کیاتھا اور اب وہ اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے پر بے حدمسرور ہیں۔

کیمرون کے دارالحکومت یاونڈے میں سوشل میڈیا کے تجزیہ کار 31 سالہ انگابو نوئل امیکائی نے کہا کہ ’’ایک افریقی کی حیثیت سے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ مراکشی طوفانی پانیوں کے باوجود آگے بڑھ رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے میچ سے قبل مزید کہا:’’مجھے پختہ یقین ہے کہ مراکش آج پرتگال کو پچھاڑدے گا‘‘۔

آئیوری کوسٹ کے دارالحکومت عابدجان میں باسیلے دجیہی دوستوں کے ساتھ شراب پی رہی تھی اور بعد میں ان کے ساتھ گیم دیکھنے کا ارادہ رکھتی تھی۔’’ہم سب مراکش کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ افریقا کی واحد امید ہے‘‘۔32 سالہ پیسٹری شیف نے کہا۔

مراکش کے دارالحکومت رباط کی سڑکوں پر، بہت سے نوجوان ٹھنڈے، گیلے موسم کو نظرانداز کرتے ہوئے رین کوٹ کے بجائے اپنی ٹیم کی سُرخ شرٹ پہن رہے تھے، کچھ کیفے یا ریستوراں میں جگہوں کی تلاش میں تھے جہاں وہ بیٹھ کر میچ دیکھ سکیں۔

ایسا لگتا تھا کہ میچ دیکھنے کی جگہوں کو مقابلہ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہی پُرکرلیا گیا تھا۔ بہت سے کیفے کرسیوں کی زیادہ جگہ بنانے کے لیے میزوں کو ہٹا رہے تھے جہاں لوگ بیٹھ کر دیکھ سکتے تھے اور باہر کاروں پرمراکش کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

توقع کی جارہی تھی کہ مراکش میں ہزاروں افراد یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے تاریخی مقام جامعہ الفناء اسکوائر میں فین زون میں میچ دیکھ رہے تھےاور کیسابلانکا شہر میں بہت سے شائقین نے اسٹیڈیم میں ایک بڑی اسکرین پر میچ دیکھنے کا انتظام کیاتھا۔

رباط سے 15 کلومیٹر دور واقع سلاالجدیدہ میں رہنے والے ایک ڈرائیورہشام العصری نے کہا کہ ’’آج ہم ایک بڑے خاندان کی حیثیت سے کھیل دیکھ رہے ہیں کیونکہ میرے والدین اور بھائی ہمارے ساتھ شامل ہورہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ مراکش کی فٹ بال ٹیم کینیڈا کودوایک سے شکست دے کرعالمی کپ ٹورنا منٹ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب ہوئی تھی۔وہ عالمی کپ ٹورنامنٹ کے پہلے مرحلے میں گروپ ایف میں سرفہرست رہی تھی۔تُونس ، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر تمام عرب ٹیموں کے ٹورنا منٹ سے باہرہونے کے بعد مراکش واحد عرب ملک تھا جس نے 16ٹیموں کے مرحلے میں جگہ بنائی تھی اور پھر اسپین کو شکست دے کر کوارٹر فائنل میں پہنچی تھی۔

رونلڈو مراکش سے کوارٹرفائنل میچ میں شکست کے بعد رورہے ہیں۔
رونلڈو مراکش سے کوارٹرفائنل میچ میں شکست کے بعد رورہے ہیں۔
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں