عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بہت ترقی ہوئی ہے: شی جن پنگ

خلیجی ملکوں سے تیل کی درآمد جاری رکھیں گے، دوسرے ملکوں میں عدم مداخلت کے اصول پر کام کر رہے: چینی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ اس سربراہی اجلاس کو عرب چینی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک بہترین موقع سمجھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین-عرب تعاون فورم میں تعاون کے 17 میکانزم قائم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے ریاض میں عرب چینی سربراہی اجلاس کے اختتام پر کہا کہ یہ سربراہی اجلاس مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے اور چین کے عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔

تعلقات کی گہری جڑیں

چینی صدر شی جن پنگ نے سربراہی اجلاس سے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ عرب ممالک اور چین کے درمیان تعلقات کی جڑیں قدیم شاہراہ ریشم سے جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا عرب تہذیب ایک زبردست تہذیب ہے پوری تاریخ میں دنیا میں اس کا کردار قابل ستائش ہے۔

چینی صدر نے کہا چینی عرب سربراہی اجلاس ایک روشن مستقبل کی طرف لے جائے گا۔ ہم اس حوالے سے ایسے جامع تعاون کا خواہاں ہیں جس سے چینی مشترکہ مفادات میں اضافہ ہو۔

شی جن پنگ میں اپنی تقریر میں تہذیبوں کے تصادم اور ان کی جدوجہد کے اصول کو مسترد کر دیا۔

300 بلین ڈالر کی باہمی تجارت

شی جن پنگ نے انکشاف کیا کہ عرب ملکوں اور چین کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 300 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ بڑی اور گہری تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے اور عرب عوام اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب کو مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے اور عرب ممالک کی ترقی کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔

انہوں نے ترقی اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کی حمایت کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سعودی چینی سربراہی اجلاس میں خطاب

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہر کسی کو بالخصوص خوراک اور توانائی کے تفحظ کے معاملات میں مؤثر طریقے سے تعاون کرنا چاہیے کیونکہ خطے میں امن کو برقرار رکھنا اور مشترکہ سلامتی حاصل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا خطے میں دباؤ والے مسائل کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے عرب کوششوں کی حمایت کرنا چاہیے کیونکہ اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے چین اور عرب ممالک کے درمیان افہام و تفہیم اور باہمی اعتماد کو بڑھانا بھی ضروری ہے۔

صدر شی نے کہا عرب چینی سربراہی اجلاس نے متفقہ طور پر ایک نئی دنیا کے لیے مشترکہ مستقبل کی تعمیر کی کوشش کی جہاں دہشت گردی کو کسی خاص مذہب یا نسل سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔

چینی صدر نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ تاریخی ناانصافی جاری نہیں رہ سکتی اور فلسطینی ریاست کی خواہش کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے چینی صدر شی جن پنگ تین روزہ سرکاری دورہ پر سعودی عرب آئے ۔ یہاں انہوں نے تین اہم سربراہی اجلاسوں میں شرکت کی اور تینوں سربراہی اجلاس میں تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تیل کی درآمد جاری رکھیں گے: شی جن پنگ

چین خلیج سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہم خلیجی ممالک کی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے اور ہم خلیجی ممالک سے بڑی مقدار میں تیل کی درآمد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا خلیجی تعاون کونسل عالمی چیلنجوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک اور چین اقتصادی اور صنعتی انضمام حاصل کر سکتے ہیں۔

صدر شی نے کہا ہم دوسرے ملکوں کے معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کو حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں