قطر:امریکی اسپورٹس رائٹرگرانٹ واھل عالمی کپ کی کوریج کے دوران میں اچانک چل بسے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

معروف امریکی فٹ بال صحافی گرانٹ واھل قطر میں ہونے والے عالمی کپ کے ایک میچ کی کوریج کے دوران میں اچانک ڈھے پڑے اور پھرچل بسے ہیں۔

یوایس سوکر نے کہا ہے کہ واھل کی موت کے بارے میں جان کر دل ٹوٹ گیا ہے۔ان کی اہلیہ نے ٹویٹر پر امریکی فٹ بال کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’مکمل صدمے میں ہیں‘‘۔

قطر کے ورلڈ کپ کے منتظمین، سپریم کمیٹی برائے ڈیلیوری اینڈ لیگیسی (ایس سی) نے واھل کی ’’فٹ بال سے بے پایاں محبت‘‘کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ، دوستوں اور میڈیا کے ساتھیوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

واھل پہلے اسپورٹس السٹریٹڈ کے کھیلوں کے لکھاری تھے۔اس کے بعد وہ آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم سب اسٹیک میں آگئے تھے۔وہ جمعہ کو اپنی موت سے چندے قبل نیدرلینڈز اور ارجنٹائن کے میچ کے بارے میں ٹویٹ کر رہے تھے۔

ان کے ایجنٹ ٹم اسکینلان نے رائٹرز کو بتایا کہ واھل کوارٹر فائنل میچ میں "اضافی وقت کے آغازمیں کسی قسم کی شدید پریشانی کا شکار نظر آئے۔مقامی اسپتال لے جانے سے پہلے پریس باکس میں واھل کوزندہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی ،مگر اسپتال میں ان کی موت کی تصدیق ہو گئی تھی‘‘۔

عالمی کپ سپریم کمیٹی کے ترجمان نے کہا:’’ہم امریکی سفارت خانے اورمتعلقہ مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لاش کو واپس بھیجنے کا عمل اہل خانہ کی خواہشات کے مطابق ہو‘‘۔

اسکینلان نے کہا کہ ’’ہر کوئی جذباتی ہے اور یہ واقعی تکلیف دہ ہے۔وہ مردوں اور خواتین دونوں کے کھیلوں کے لیے ایک حقیقی وکیل تھا اورفی الواقع صرف کھیل کے بارے میں گہری پروا کرتا تھا۔وہ ہمدرد اورایک شاندار مصنف تھا‘‘۔

فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واھل کی فٹ بال سے بے پناہ محبت تھی اور ان کی رپورٹنگ کو وہ سب یاد کریں گے جو اس عالمی کھیل کو فالو کرتے ہیں۔

واھل نے کہا کہ نومبرکے آخر میں انھیں ورلڈ کپ اسٹیڈیم کے سیکیورٹی اسکریننگ پوائنٹ پر تھوڑی دیر کے لیے روک دیا گیا تھا جب انھوں نے ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کی حمایت میں رینبو شرٹ پہن کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ قطر میں ہم جنس پرستی کے تعلقات غیر قانونی ہیں۔

ورلڈ کپ سکیورٹی نے انھیں الریان کے احمد بن علی اسٹیڈیم میں ویلز کے خلاف امریکا کے افتتاحی میچ میں داخلے سے روک دیا اورانھیں اپنی شرٹ اتارنے کا کہا تھا۔واھل نے پیر کے روز لکھا کہ وہ قطر میں قیام کے دوران میں ایک اسپتال بھی گئے تھے۔

انھوں نے سب اسٹیک پر پوسٹ کیا:’’مجھے کووڈ نہیں تھا (میں یہاں باقاعدگی سے ٹیسٹ کرتا ہوں) ، لیکن میں آج مرکزی میڈیا سینٹر کے میڈیکل کلینک میں گیا، اورانھوں نے کہا کہ مجھے شاید پھیپھڑوں کا ورم ہے‘‘۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ٹویٹر پر کہا کہ محکمہ واھل کے اہلِ خانہ سے قریبی رابطے میں ہے۔ہم قطر کے اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے اہل خانہ کی خواہشات کے مطابق میت کی واپسی کا عمل جلدپورا ہوں۔

امریکا کی فٹ بال کمیونٹی نے اس خبر پر فوری طور پر دکھ کا اظہار کیا۔میجر لیگ سوکر کے کمشنر ڈان گاربر نے کہا کہ ’’متوفیٰ ایک مہربان اور دیکھ بھال کرنے والے شخص تھے۔ان کا فٹ بال کے لیے جذبہ اور صحافت کے لیے لگن لامحدود تھی‘‘۔

دو مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے والی میگن ریپینو نے ٹوٹر پر کہا کہ ’’ان کی موت ان کے خاندان اور پیاروں کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں