ایرانی خواتین نے اخلاقی پولیس کی اہلکارکو بس سے باہر نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں عوام کی نفرت کی علامت بننے والی اخلاقی پولیس ’گشت ارشاد‘ کے حوالے سے ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایرانی خواتین گشت ارشاد کی ایک خاتون اہلکار کوبس سے باہر نکال رہی ہیں۔

ویڈیو بنانے والی دو خواتین نے کہا کہ "ہم ہر روز اپنے سر سے اسکارف اتارتی ہیں اور ہم اخلاقی پولیس کی طرف سے بدمعاشی کو قبول نہیں کرتیں۔ ہم صنفی امتیاز اور نسل پرستی کے نظام کو ختم کریں گی‘‘۔

ایرانی صوبہ سیستان - بلوچستان میں خواتین نے حال ہی میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے وسیع پیمانے پر احتجاج میں شمولیت اختیار کی۔ ایران میں خواتین کی طرف سے بنیادپرست طبقے کے خلاف آئے دن احتجاج دیکھا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیو ریکارڈنگز میں صوبائی دارالحکومت زاہدان میں درجنوں خواتین کو دکھایا گیا۔انھوں نے ستمبر کے وسط میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے سب سے نمایاں نعروں میں سے ایک "عورت، زندگی، آزادی" کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔

اوسلو میں مقیم ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹرمحمود امیری مقدم نے زاہدان میں خواتین کے مظاہرے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "یہ واقعی اپنی نوعیت کا ایک نادر مظاہرہ ہے۔ گذشتہ دو سال میں مرد جمعہ کی نماز کے بعد سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ایران میں حالیہ مظاہرے وقار کے انقلاب کے آغاز کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان مظاہروں نے خواتین اور اقلیتوں کو بااختیار بنایا ہے جن کے ساتھ چار دہائیوں سے دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں