ایران کو جوہری ہتھیارمل جاتے ہیں توتمام شرائط ختم ہوجائیں گی:سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا ہےکہ اگر ایران کو آپریشنل جوہری ہتھیارمل جاتے ہیں تو تمام شرائط ختم ہوجائیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ خلیجی عرب ریاستیں اپنی سلامتی کی ضمانت کے لیے خود آگے بڑھ رہی ہیں۔

شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اتوارکوابوظبی میں ورلڈ پالیسی کانفرنس میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’اگرایران کو آپریشنل جوہری ہتھیارمل جاتا ہے تو تمام شرطیں ختم ہوجائیں گی‘‘۔ان سے یہ سوال کیا گیا تھاکہ وہ ایک جوہری ایران کی موجودگی میں کیا منظرنامہ دیکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم خطے میں ایک بہت خطرناک جگہ پرواقع ہیں۔آپ یہ توقع کرسکتے ہیں اورعلاقائی ریاستیں یقینی طورپراس بات پرضرورغورکریں گی کہ وہ کس طرح اپنی سلامتی کو یقینی بناسکتی ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ اس وقت ایران اورامریکا کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔مغربی طاقتیں ایران پرغیرمعقول مطالبات پیش کرنے کا الزام عاید کررہی ہیں اور روس اور یوکرین کی جنگ کے ساتھ ساتھ 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے ردعمل میں ایران میں جاری داخلی بدامنی اوراحتجاجی مظاہروں پرتوجہ مرکوزکر رہی ہیں۔

اگرچہ الریاض عالمی طاقتوں کے ایران سے جوہری معاہدے کے بارے میں ’’شکوک وشبہات‘‘ کا شکار ہے ، مگرشہزادہ فیصل نے کہا کہ ان کاملک اس معاہدے کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور وہ اس شرط پرایسا کرنے کو تیار ہے کہ یہ تہران کے ساتھ کسی مضبوط معاہدے کے لیے ایک نقطہ آغاز نہیں بلکہ اختتامی نقطہ ہوگا۔

خلیجی عرب ریاستیں ایک ایسے مضبوط معاہدے پر زوردے رہی ہیں جو شیعہ ایران کے میزائلوں،ڈرون پروگراموں اورعلاقائی آلہ کار تنظیموں کے نیٹ ورک کے بارے میں ان کے خدشات کودورکرے۔شہزادہ فیصل نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت کے اشارے زیادہ مثبت نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا:’’ہم نے ایرانیوں سے سنا ہے کہ انھیں جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں کوئی دلچسپی نہیں، اس بات پریقین کرنے کے قابل ہونابہت اطمینان بخش اور پرسکون ہوگا۔ہمیں اس سطح پرمزید یقین دہانی کی ضرورت ہے‘‘۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری ٹیکنالوجی مکمل طورپرشہری مقاصد کے لیے ہے۔متحدہ عرب امارات کے ایک سینیرعہدہ دار نے ہفتے کے روز کہا تھاکہ تہران کے ہتھیاروں کے بارے میں حالیہ واقعات کے پیش نظرجوہری معاہدے کے ’’پورے تصور‘‘پرنظرثانی کرنے کا ایک موقع ہے کیونکہ مغربی ریاستیں روس پر یوکرین پرحملے کے لیے ایرانی ڈرون استعمال کرنے کا الزام عاید کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں