جرمنی کی آبادی میں تارکین وطن کی وجہ سے اضافے کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن چانسلر اولف شولز نے کہا ہے کہ آنے والے برسوں کے دوران جرمنی کی آباد میں اضافہ ہو رہا ہے ، جیسا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ جرمنی میں امیگریشن میں اضافہ ہو جائے۔ تاکہ کارکنوں کی کمی کے مسائل کے علاوہ پیشن کے معاملات کو کنٹرول کیا جاسکے۔

جرمنی کی حکومت دوسرے ملکوں سے مختلف شعبوں کے لیے کارکنوں کی آمد کو بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ یہ جرمنی کی نظام کار کو چلانے کے علاوہ معاشی پالیسیوں کے لیے بھی اہم ہے۔ اس وجہ سے جرمنی دوسرے ملکوں سے آنے والوں کے گلیوں اور بازاروں میں جمگھٹے دیکھنے کوتیار ہے۔

جرمن چانسلر نے کہا ہمارا اندازہ ہے کہ 2070 تک سات فیصد کے اضافے کے ساتھ 90 ملین ہو جائے گی۔

جرمن حکومت نے پچھلے ماہ اس منصوبے پر اتفاق کیا تھا کہ اپنے امیگریشن قوانین میں اصلاح کرے اور جیسا کہ برلن کی جاب مارکیٹ یورپی ملکوں کے لیے کھلی ہے اسے یورپ کے علاوہ ملکوں کے لیے کھولنے کی تیاری ہے۔ جو یقینا مقاملتاً سستے پڑیں گے۔

حکومت نے امیگریشن کے حوالے سے تربیتی امور کو بھی بڑھاوا دینے کا سوچا ہے تاکہ ملک میں ہنر مندوں کی کمی کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ کیونکہ جرمنی کی بوڑھی آباد میں اجافہ پنشن کے معاملات میں مسلسل اضافے کا باعث ہیں جو ملکی معیشت کے لیے نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔
چانسلر شولز کے مطابق تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے حکومت کو 2025 میں اپنی مدت پورا ہونے تک ہو سکتا ہے اپنے پنشن کے کھاتے میں اضافہ نہ کرنا پڑے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں