اوپیک پلس

روسی تیل پرمغرب کی قیمتوں کی حد کےکوئی واضح نتائج نظرنہیں آرہے:سعودی وزیرتوانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ روس کے خام تیل پر یورپی پابندیوں کے اثرات اورقیمتوں کی حد کے اقدام کے ابھی تک واضح نتائج نہیں سامنے نہیں آئے ہیں۔اس پابندی پرعمل درآمد کا لائحہ عمل بھی واضح نہیں ہے۔

روس کے سمندری تیل پرگروپ سات کی قیمت کی حد 5 دسمبر سے نافذالعمل ہوچکی ہے۔مغربی ممالک نے روسی تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمت 60 ڈالرفی بیرل مقرر کی تھی۔وہ اس اقدام کے ذریعے یوکرین میں روس کی جنگ کی مالی اعانت کی صلاحیت کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔روس نے کہا ہے کہ وہ اس اقدام کی پاسداری نہیں کرے گا چاہے اسے اپنی پیداوار میں کٹوتی ہی کیوں نہ کرناپڑے۔

شہزادہ عبدالعزیز نے الریاض میں 2023 کے بجٹ اعلانات کے بعد منعقدہ ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں اور قیمتوں کی حد کے حوالے سے اب جو کچھ ہو رہا ہے،ان سب کے واضح نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ روس کا رد عمل اوروہ مغرب کے حربوں کے جواب میں کیا اقدامات کرے گا،یہ ایک اور پہلو ہے جس پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے قیمتوں کی حد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’یہ حربے سیاسی مقاصد کے لیے وضع کیے گئے تھے اور ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا وہ ان سیاسی مقاصد کو حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ 2023ء میں مارکیٹ کو متاثرکرنے والے دیگرعوامل میں چین کی کووِڈ-19 کی پالیسیاں شامل ہیں۔ان پابندیوں میں نرمی سے چین کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کودیکحنے کے لیے اب بھی وقت کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ افراطِ زرپرقابو پانے کے لیے مرکزی بینکوں کے اقدامات بھی ایک عنصر تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’مرکزی بینک اب بھی افراط زر کے انتظام میں مصروف ہیں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ان اقدامات کی لاگت اورعالمی اقتصادی ترقی پران کے ممکنہ منفی اثرات کیا ہوئے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرحالیہ پیش رفتوں پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ 5 اکتوبر کواوپیک پلس اتحاد کا تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کا فیصلہ درست ثابت ہوا ہے۔

پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ارکان اور روس سمیت اتحادیوں پرمشتمل اس گروپ کا آخری اجلاس 4 دسمبر کو ہوا تھا۔اس میں اس نے کم زور معیشت اورغیر یقینی صورتحال کے تناظر میں پیداوارمیں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

شہزادہ عبدالعزیز نے واضح کیا کہ اتحاد آیندہ سال کے دوران میں مارکیٹ کے استحکام پر توجہ مرکوز رکھے گا۔انھوں نے اس بات پر بھی زوردیاکہ اوپیک پلس اتحاد کا ہر رکن ملک فیصلہ سازی میں حصہ لے۔

انھوں نے کہا کہ ’’گروپ کی کارروائی کے لیے معاہدے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وجہ سے میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ اوپیک پلس کا ہر رکن،خواہ وہ بڑا یاچھوٹاپیداکنندہ ... فیصلہ سازی کا حصہ بنے کیونکہ اتفاق رائے کے مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں