سعودی ولی عہد نے امریکی گرینرکی رہائی کے لیے ذاتی طورپرثالثی کی کوشش کی: وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا کی باسکٹ بال اسٹار برٹنی گرینرکی رہائی کے لیے ذاتی طورپرثالثی کی کوشش کی ہے۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے الریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں باسکٹ بال کی کھلاڑی کے حوالے سے ولی عہد شہزادہ محمد کی ذاتی کوششوں اوراس کی رہائی کے لیے ان کی ذاتی مداخلت سے آگاہ ہوں لیکن جہاں تک دوسروں کے کہنے کا تعلق ہے،میں اس پرتبصرہ نہیں کرسکتا‘‘۔

واشنگٹن نے ایسی کسی بھی ثالثی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات چیت امریکااورروس کے درمیان ہوئی ہے۔اس نے یہ دعویٰ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ایک مشترکہ بیان کے بعد کیا ہے۔اس مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ اماراتی صدراور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد نے ثالثی کی کوششوں کی قیادت کی تھی۔

گرینرکے تبادلے میں امریکا نے روسی شہری وکٹر بوٹ کو رہا کیا ہے اور ان دونوں قیدیوں کا تبادلہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ایک ہوائی اڈے پر ہوا تھا۔

سعودی عرب نے ستمبر میں یوکرین میں پکڑے گئے مبیّنہ غیرملکی جنگجوؤں کوآزادی دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا اور سفارتی فتح حاصل کی تھی۔ایسے وقت میں جب الریاض اور واشنگٹن کے مابین تناؤ ہے جن کے تعلقات انسانی حقوق ، تیل کی فراہمی اور روس پر تناؤ کا شکار ہیں۔

الریاض نے مغربی دباؤ کا مقابلہ کیا ہے اور اس پالیسی کی وجہ سے مغرب کو روس کوالگ تھلگ کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

شہزادہ فیصل نے چینی صدرچی جِن پنگ کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پرنیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فریقوں کے انتخاب پر یقین نہیں رکھتا اور وہ تمام معاشی طاقتوں بشمول باہم حریفوں امریکا اورچین کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں