سعودی معیشت

مالی سال 2022 کی تیسری سہ ماہی میں سعودی پیداواری شرح نمو میں 8،8 فیصد کا اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں سعودی عرب کی معاشی شرح نمو پچھلے سال کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں 8،8 فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔ شرح نمو میں یہ اضافے کی بڑی وجہ تیل سے متعلق سرگرمیاں بنی ہیں۔

تیل سے متعلق تجارتی و برآمدی سرگرمیوں میں یہ اضافی اسی تسری سہ ماہی کے دوران 14،2 رہا ہے۔ سعودی محکمہ شماریات کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق تل کے علاوہ برآمدات اور تجارت کے شعبے مں بھی 6 فیصد اضافہ ہو ا ہے۔ اگرچہ اس سہ ماہی کے دوران غیر تیل کے اشیا کی برآمدو تجارت میں 0،5 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

واضح رہے سعود عرب کی طرف سے پچھلے ہفتے کہا گیا تھا کہ توقع کی جارہی ہے کہبجٹ برائے سال 2023 مسلسل فاضل بجٹ کے طور پر پیش کیا جا سکے گا۔ سعودی بجٹ کے اس کے باوجود فاضل ہونے کی توقع ہے کہ دنیا بھر مں معاش مند 84 فیصد تک چلی گئی ہے۔

شماریاتی شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ ' رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں تیل کی موجودہ قیمت کے 1،036 ٹریلین سعودی ریال تک چلی گئی ہے۔ شرح نمو کی مجموعی سطح میں خام تیل اور قدرت گیس کے حوالے سے بزنس نے 35، 2 فیصد جبکہ تیل کے علاوہ شعبوں سے 50،7 فیصد کا کردار رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد الجدان نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا 'مملکت نے سال 2022 کے لے اپنی متوقع شرح نمو کی پیش گوئی کو تبدیل کیا ہے اور یہ بڑھا کر 8،5 کر دی گئی ہے، اس سے پہلے مالی سال کے آغاز کے موقع پر شرح نمو کا ہدف 8 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں